گھر میں آگ لگنے سے آدمی کی موت، لیکن موت کے بعد اس کے بھتیجے نے مرحوم کا لیپ ٹاپ کھول کر دیکھا تو مرنے کی اصل اور انتہائی شرمناک وجہ سامنے آگئی، آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کیونکہ دراصل آگ نہ لگی تھی بلکہ۔۔۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک شخص کی گھر میں آگ لگنے کے باعث موت واقع ہو گئی۔ دو سال بعد متوفی کے بھتیجے نے اس کا لیپ ٹاپ کھول کر دیکھا توانکشاف ہوا کہ اس کی موت آتشزدگی میں نہیں بلکہ ایسی شرمناک وجہ سے ہوئی کہ نوجوان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق پیٹر فیسولی نامی اس متوفی کا بھتیجا کرسٹوفر اپنے چچا کے گھر میں آیا۔ وہ اس کے گھر میں اپنے شجرہ نسب کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسی دوران اس نے فیسولی کا لیپ ٹاپ کھول لیا۔رپورٹ کے مطابق لیپ ٹاپ میں کرسٹوفر کو ایک ویڈیو مل گئی جس میں فیسولی کی موت کی اصل وجہ کی عکسبندی موجود تھی۔ درحقیقت فیسولی کی موت آگ لگنے سے نہیں بلکہ ”متشدد جنسی تعلق“ کے دوران ہوئی تھی۔ وہ متشدد جنسی تعلق کی سہولت فراہم کرنے والے شخص جیسن مارشل کے ساتھ نشست کر رہا تھا کہ اس دوران تشدد سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ یہ تمام منظر اس ویڈیو میں موجود تھا۔ رپورٹ کے مطابق کرسٹوفر معاملہ عدالت میں لے گیا جس پر جیسن مارشل کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا۔ تاہم مارشل نے عدالت میں قتل کے الزام تردید کر دی ہے۔ پراسیکیوٹرایڈوارڈ براﺅن نے عدالت کو بتایا کہ ”ویڈیومیں دیکھا جا سکتا ہے کہ مارشل، فیسولی کو انتہائی بھیانک طریقے سے تشدد کا نشانہ بنا رہا تھا جس سے لگتا ہے کہ اس کا ارادہ ہی اسے قتل کرنے کا تھا۔“ مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔