سعید پرویز

ظلم کے نامے

وہ جنھوں نے دراصل پاکستان بنایا تھا، وہی ہمارے بنگال کے لوگ، وہ اس خیال کے زبردست حامی تھے ’’زرعی اصلاحات‘‘ فوری نافذ ہوں۔
1930 میں علامہ اقبال نے قائداعظم محمد علی جناح کو لاہور سے خط لکھا جس میں علامہ نے کہا کہ پنجاب میں مسلم لیگ کا جاگیردار گروپ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے ہی جاگیردار مسلم لیگ بنائی جا رہی ہے۔ خیر تقسیم ہند کے فوری بعد ہی دبلے پتلے اور معمولی کسان گھرانے کے بیرسٹر ولبھ بھائی پٹیل نے انڈین کانگریس میں ہندوستان کے راجے مہاراجوں، ریاستوں کے مالکوں کے خلاف ایک بل پیش کیا، جس کی رو سے راجوں مہاراجوں اور ریاستوں کا خاتمہ کردیا گیا۔
پاکستان بنا تو قائداعظم تقریباً ایک سال بعد انتقال کرگئے۔ لیاقت علی خان وزیراعظم پاکستان بنے اور دارالخلافہ کراچی سے زرعی اصلاحات کا بل لے کر پنجاب پہنچے تو اسی جاگیردار مسلم لیگ نے ان کو گھیر لیا۔ ممدوٹ، ٹوانے، گورمانی، کرنل، مجاہد حسین و دیگر نے وزیراعظم لیاقت علی خان کو زرعی اصلاحات سمیت واپس کراچی بھیج دیا، اور پھر اس زرعی اصلاحات کے خطرے کا ہی خاتمہ کردیا گیا۔ لیاقت علی خان کو شہید ملت بناکر قائداعظم کے ساتھ قریب ہی دفنا دیا گیا۔ لیاقت آباد، لیاقت باغ، شہید ملت روڈ، شاہراہ لیاقت پیچھے رہ گئے۔وہ دن اور آج کا دن پھر کسی نے زرعی اصلاحات کا نام تک نہیں لیا۔ لیاقت علی خان کے بعد پاکستان میں وہ بندربانٹ مچی کہ پنڈت نہرو نے یہ کہہ کر ہمارا مذاق اڑایا کہ ’’اتنی تو میں دھوتیاں نہیں بدلتا، جتنی پاکستان میں وزارتیں بدلتی ہیں۔‘‘
یہ باتیں جو میں نے لکھی ہیں، یہ سب کچھ بڑی تفصیل کے ساتھ تاریخ میں محفوظ ہیں۔ قائداعظم کے ساتھ جن رہنماؤں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا تھا، قیام پاکستان کے بعد وہ کہیں بھی حکومتوں میں نظر نہیں آئے، بس ایک لیاقت علی خان تھے جنھیں فوری طور پر شہید ملت بنادیا گیا۔ حسین شہید سہروردی اور خواجہ ناظم الدین چند روز حکومت میں رہے اور بس۔
پاکستان میں پہلا فوجی مارشل لا لے کر آنے والے فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان کے دور حکومت کا احوال قدرت اللہ شہاب نے ’’شہاب نامہ‘‘ کی صورت لکھا ہے۔ محلاتی سازشیں، بے ضمیروں کی بے ضمیریاں، چاپلوسوں کی چاپلوسیاں، مشیروں کی مشیریاں، سفیروں کی سفیریاں، وزیروں کی وزیریاں، ادیبوں کی ادیبیاں، شاعروں کی شاعریاں، شہاب صاحب نے خوب خوب بیان کی ہیں۔ شہاب نامہ آج اتنے برس گزرنے کے بعد بھی چھپے چلا جا رہا ہے۔ اور کیوں نہ چھپے! اسی ’’نامے‘‘ میں ہی وہ سب ’’کارستانیاں‘‘ موجود ہیں جن پر بعد کو آنے والے حکمرانوں نے عمل جاری رکھا۔ یہ ’’نامے‘‘ والا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
ریٹائرڈ افسران، فوجی جرنیل، سیاستدان (چھوٹے بڑے) سب اپنے قصے کہانیاں لکھ کر ’’نامعلوم‘‘ کیا چاہتے ہیں۔ یہ ’’داستان گو‘‘ حکومتی مزے لوٹ کر ملکوں ملکوں گھوم پھر کے پنج ستارہ اور ست ستارہ ہوٹلوں میں قیام و طعام، غیر ملکی حکومتوں کے درباروں کی حاضریاں بھر کے، تحفے تحائف سے لدے پھندے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ یہی سب ’’کر کرا کے‘‘ پھر لکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ حکومتوں کے ظلم و ستم میں شامل، حکمرانوں کی لوٹ مار کے حصے دار، یہ داستان گو ’’سب کچھ ہوتا‘‘ دیکھتے رہتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں، اور خوب سیر ہونے کے بعد اپنی آپ بیتی لکھتے ہیں اور کیا خوب ہے کہ ان کی ’’کلاس‘‘ کے لدے پھندے لوگ ان آپ بیتیوں کی رونمائی (پنج ستارہ ہوٹل) کے موقع پر تشریف لاتے ہیں اور ہزاروں کتابیں بک جاتی ہیں، اونچے اونچے گھروں کے بک شیلف میں سج جاتی ہیں، ’’بکے ہوؤں کی کتابیں بھی‘‘ بک جاتی ہیں اور بڑے ادیبوں کی شاعروں کی کتابیں دیمک چاٹ جاتی ہے۔
یہ ریٹائرڈ بیورو کریٹ، سیاست دان ’’نامے‘‘ اس لیے لکھتے ہیں کہ حکمرانوں کے ظالمانہ جابرانہ طرز حکومت کی روایت کو آنے والے حکمران جاری و ساری رکھیں اور عوام بھی سمجھ لیں کہ ان کی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہے۔ پاؤں کے نیچے آئے تو رگڑے گئے انگلیوں کے بیچ آئے تو مسئلے گئے۔
بعض ’’نامے‘ ابھی قسط وار شایع ہو رہے ہیں، قسطیں ختم ہونے پر کتاب کی صورت یہ نامے آجائیں گے۔ بسم اللہ یہ ’’نامے‘‘ بھی آجائیں، جہاں ستیا ناس وہاں سوا ستیا ناس اور پھر درس یہ دیا جاتا ہے کہ یہ سب قسمت کا لکھا ہوتا ہے اور یہ لکھا ہوکر رہتا ہے۔ اسے کون موڑ سکتا ہے۔ لیجیے جناب! اسے موڑا بھی نہیں جاسکتا، یعنی رضائے ایزدی سمجھ کر قسمت کے لکھے کو صبر شکر کے ساتھ قبول کرلینا چاہیے۔
ابھی چند دن ہوئے ایک نام والی ادیبہ کی کتاب ہاتھ لگ گئی۔ اسے پڑھ ڈالا، موصوفہ اپنی ایک سہیلی جو موصوفہ سے بھی کہیں زیادہ نامور تھیں ان کے بارے میں لکھتی ہیں ’’میں اس کے گھر گئی، تو گاؤں کی ایک کمی عورت آئی اور نامور ادیبہ کے پاؤں چھو کر جوتیوں میں جا بیٹھی۔ یہ دیکھ کر ادیبہ نے اس نامور ادیبہ سے کہا، یہ کیا ہے۔ اسے کہو جوتیوں کی جگہ سے اٹھ کر دوسری جگہ بیٹھ جائے تو اس ادیبہ نے کہا اسے وہیں بیٹھا رہنے دو۔‘‘ ماجرا یہ تھا کہ موصوفہ ادیبہ ایک بڑے پیر خاندان کی بہو تھیں اور پیروں کے گھروں میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ ’’دیکھو اج وی صدیاں پچھے ایتھے دا انسان‘‘ بلال حبشی اور محمدؐ یاد آگئے۔ خیر میرا معاملہ یہ ہے کہ ایسی پیرانی ادیبہ میری بلا سے جتنی بھی عمدہ ناول نگار، افسانہ نگار ہو، مجھے قبول نہیں۔
اوپر میں نے لکھا ہے کہ بقول زمانے کے قسمت کا لکھا اٹل ہے۔ اسے کون موڑ سکتا ہے۔ اور اقبال عجیب فلسفی، عجیب شاعر ہے کہ قدم قدم پر گرے پڑے ہوؤں کو احساس دلاتا ہے۔ ’’اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے‘‘ یا ’’نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں‘‘ اقبال تو انسان کو نئی دنیائیں دکھاتا ہے۔
’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں/ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں/اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا/ کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں/ اور یہ بھی ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں‘‘ اور جالب بھی یہی کہتا ہے ’’یہ کہنہ تقدیر کا شکوہ کب تک/ اس کو آپ بدلنا کب سیکھو گے/ طوفانوں میں پلنا کب سیکھو گے/ خود اپنی بگڑی تقدیر بنالو/ یہ جو ہم پر مسلط ہے یہ غریب عوام کی تقدیریں نہیں ہیں۔ یہ سب کیا دھرا غاصبوں، قابضوں کا ہے۔ جنھوں نے حقوق غصب کیے ہوئے اور قبضے کیے ہوئے ہیں۔ ان غاصبوں، قابضوں کا خاتمہ ہی اصل حل ہے۔ حبیب جالب نے فلم ’’ساز و آواز‘‘ کے لیے ایک گیت لکھا تھا، موسیقار حسن لطیف للک تھے اور گلوکارہ نورجہاں۔
کیوں کہیں یہ ستم آسماں نے کیے
آسماں سے ہمیں کچھ شکایت نہیں
دکھ ہمیں جو دیے اس جہاں نے دیے
چند لوگوں کے ہاتھوں میں ہے زندگی
چھین لیتے ہیں جب چاہتے ہیں خوشی
اونچے اونچے گھروں میں ہے جو روشنی
جل رہے ہیں ہمارے لہو کے دیے
لاکھ چلتی رہے یہ ہوائے ستم
دیپ بجھنے نہ دیں گے محبت کا ہم
دیکھنا بیت جائے گی شامِ الم
جی رہے ہیں یہی آس دل میں لیے
قسمت کا لکھا کون موڑے؟ فکر نہ کرو بہت جلد! بہت جلد!