سلمان عابد

امریکی صدر ٹرمپ اور افغان پالیسی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں پاکستان سمیت مسلم دنیا میں پہلے ہی کوئی بڑی اچھی توقعات نہیں تھیں۔ان کی انتخابی مہم خاص طور پر مسلم دشمنی اور پاکستان مخالفت سے جڑی ہوئی تھی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی ٹرمپ کی انتخابی مہم میں بھارت اور اس کے سفارت کار، میڈیا،اور ان کی لابی فرمز کی حمایت کا عمل دخل بہت زیادہ تھا۔یہ ہی وجہ تھی کہ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد یہ احساس نمایاں تھا کہ وہ اس خطہ میں بھارت اور اس کے مفادات کے ساتھ کھڑا ہے اور پاکستان کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا کرنا ہوگا۔
یہ ہی وجہ تھی کہ ہمیں بھارت کی عملی خواہش کی ایک جھلک ریاض سعودی عرب میں مسلم ممالک کے ایک غیر معمولی کانفرنس میںدیکھنے کو ملی جہاں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو سعودی عرب، امریکا سمیت کئی ملکوں نے صاف نظر انداز کیا۔مسئلہ محض نظر انداز کرنے کا ہی نہیں تھا، بلکہ بھارت کے تحفظات پر ایک لفظ بھی نہیں بولا گیا۔
صدر ٹرمپ نے بھارت اور افغانستان کو دہشتگردی کے شکار ملک کے طور پر پیش کیا۔ٹرمپ نے 21اگست کو جو پالیسی بیان دیا ہے وہ اس وقت ہمارے لیے کافی اہمیت رکھتا ہے، اس پالیسی بیان کو سمجھ کر ہی ہم مستقبل میں پاک امریکا تعلقات اور اسی تناظر میں بھارت اور افغانستان کے مسئلہ کو بھی سمجھ سکتے ہیں، کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف امریکا کی پالیسی یہ ہے کہ پاکستان ہمارا اہم پارٹنر ہے اوراس کی مدد کے بغیر ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکیں گے۔لیکن دوسری طرف پاکستان کو دباؤ میںلانے یا مزید ڈومور کی پالیسی کے تحت ایک بڑا دباؤ پیدا کرنا ہے اور یہ تاثر دینا ہے کہ امریکا پاکستان کو حالیہ اقدامات کے باوجود کوئی کلین چٹ نہیں دے سکتا۔خاص طو رپر امریکی صدر کا یہ کہنا کہ اس خطے میں موجود بڑے دہشتگرد طالبان، القائدہ اور داعش کے محفوظ ٹھکانے پاکستان میں ہیں یا پاکستان ان کی کسی نہ کسی شکل میں حمایت کررہا ہے۔ اس کے لیے اسے ان دہشتگردوں کو نکیل ڈالنا ہوگی۔
یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ پشاور اور کوئٹہ میں موجود طالبان شوری افغانستان میں دہشتگردی کو کنٹرول کررہی ہے۔ٹرمپ کے پالیسی بیان کا ایک اہم حصہ بھارت ہے جہاں وہ اس کی تعریف کرتے ہیں وہیں وہ امریکا اور بھارت کے درمیان بھارت کے مزید کردار کے متمنی ہیں، لیکن یہ تعلقات پاکستان کو کمزور کرنے کی قیمت پر نہیں ہونے چاہیئں یہ ہی سب کے مفاد میں ہوگا۔
صدر ٹرمپ کا پالیسی بیان پاکستان کو بھی بہت کچھ سوچنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اس دہشتگردی کی جنگ سے نمٹنے میں عالمی دنیا میں کہاں کھڑے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے میں سب سے زیادہ قربانی دینے والا ملک پاکستان اور اس کی ریاست کے اقدامات کو شک کی بنیاد پر کیوں دیکھا جارہا ہے؟
اسی طرح اس نکتہ کو بھی سمجھنا ہوگا کہ کیا وجہ ہے کہ امریکا یا دیگر ملک پاکستان پر تو دباؤ ڈالتے ہیں لیکن جو ہمارے تحفظات بھارت اورافغانستان کے تناظر میں اس پر خاموشی کیوں اختیار کی جارہی ہے؟کیا دہشتگردی کا مسئلہ محض پاکستان کا ہے یا یہ پورے خطہ کی سیاست کا بھی داخلی ایجنڈا ہے، اگر ایسا ہے تو علاقائی ملکوں میں کیونکر دہشتگردی سے نمٹنے کے بارے میں مشترکہ میکنزم ، جدوجہد اور معاملات کو سمجھنے کا فہم کمزور نظر ہے۔
حالیہ دنوں میں دنیا کی پانچ ابھرتی ہوئی معیشتوں کی تنظیم بریکس نے بھی اپنے مشترکہ اعلامیہ میں جیش محمد، لشکر طیبہ سمیت خطہ میں طالبان، دولت اسلامیہ، القائدہ، تحریک طالبان پاکستان، حقانی نیٹ ورک اورحزب التحریر کی کاروائیوں کو قابل مذمت قرار دیا ہے۔ان کے بقول دہشتگردی میں ملوث،ان کا انتظام اور حمایت کرنے والوں کو ہر صورت میں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔یاد رہے کہ بریکس کے ارکان میں بھارت، چین، برازیل،روس اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔
یہ اعلامیہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کو مختلف ممالک اور فورمز کو بنیاد بنا کر دباؤ میں لانا ہے۔یہ سوال اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے کہ کیا ان تمام دہشتگرد تنظیموں سے نمٹنے کی ذمے داری محض پاکستان پر ہی عائد ہوتی ہے یا اس میں دیگر ممالک کا بھی کردار ہے، یہ مسئلہ سیاسی تنہائی میں حل نہیں ہوگا۔
امریکا کی کوشش یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کو دو طریقوں سے دباؤ میں لایا جائے۔ اول اقتصادی امداد اور دوئم سیاسی اور سفارتی یا ڈپلومیسی کے محاذ پر دباؤ میں لاکر ڈومور کی پالیسی کو اور زیادہ شدت سے آگے بڑھانا شامل ہے۔ امریکا کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ اس وقت اس کی اہم ترجیح افغانستان ہے۔ وہ اب یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اور بالخصوص پاکستان کی فوج کی مدد کے بغیر وہ افغانستان میں بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکے گا۔
ماضی میں پاکستان کو نظر انداز کرکے افغانستان میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی امریکا کی حکمت عملی ناکام ہوئی تھی، اس لیے پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔امریکا نے جو افغانستان سے انخلا کی پالیسی اختیار کرنے کا اعلان کیاتھا، اس کو اب مسترد کرکے دوبارہ افغانستان میں مزید قیام اور فوجی بھیجنے کی پالیسی اختیار کرلی ہے۔
اگرچہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے حالیہ ٹرمپ افغان پالیسی پر شدید تنقید کی ہے اور کچھ بڑے فیصلے بھی کیے جن میں امریکی امداد پر سخت ردعمل، وزیر خارجہ کا دورہ امریکا کو ملتوی کرنا، امریکی سفارتی نمایندہ کے دورہ پاکستان کو ملتوی کرنا جیسے اقدامات شامل ہیں۔ آرمی چیف نے بھی اربوں ڈالر کی امداد کے طعنے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ہمیں ڈالر نہیں بلکہ پارٹنر شپ درکار ہے۔
اب دیکھنا یہ ہوگا کہ آنے والے دنوںمیں امریکا اورپاکستان کے تعلقات کس شکل میں آگے بڑھتے ہیں، لیکن اس میں بھارت کی کوشش ہوگی کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان مزید مسائل کو ابھار کر بداعتمادی پیدا کی جائے۔افغانستان کے تناظر میں نئی صورتحال یہ سامنے آئی ہے کہ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے پاکستان کو کشیدہ تعلقات کے خاتمہ کے لیے جامع سیاسی مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ان کے بقول پاکستان کے ساتھ امن افغانستان کا قومی ایجنڈا ہے اورا س کے لیے ہم ہر قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
افغان صدر کی جامع مذاکرات کی پیشکش اچھا فیصلہ ہے اوراس کی حمایت بھی ہونی چاہیے اور پاکستان کو اس میں خود سے بڑی پہل بھی کرنی چاہیے، تاکہ تاثر ملے ہم بھی امن چاہتے ہیں۔لیکن افغان صدر کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود داخلی سیاست میں کمزور وکٹ پر کھڑے ہیں۔ ان کے مقابلے میں پاکستان مخالف عناصر زیادہ کابل میں منظم ہیں اوران کو بھارت کی حمایت بھی حاصل ہے۔
ماضی میں افغان صدر پاکستان کی طرف دوستانہ تعلقات کے حامی بھی رہے ہیں اور کچھ اقدامات بھی اٹھائے ، لیکن بھارت اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیوںنے اس ایجنڈے کو تقویت دینے کے بجائے پاکستان دشمن ایجنڈے کو زیادہ طاقت فراہم کی۔افغانستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ داخلی محاذ پر کمزوربھی ہے اور حالات بھی اس کے کنٹرول میں نہیں۔اچھی بات یہ ہے کہ حالیہ ٹرمپ پالیسی نے پاکستان کو کافی جنجھوڑا ہے، اگر ہم واقعی زیادہ مثبت حکمت عملی اور موثر اقدامات سے آگے بڑھتے ہیں تو ہمیں فائدہ ہوگا، کیونکہ ہم سے زیادہ امریکا کو پاکستان کی ضرورت ہے اور اس کا فائدہ ہمیں ہر سطح پر اٹھانا چاہیے۔