زمرد نقوی

پاکستان کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات

ابھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی فضا میں گونج رہی تھی کہ پانچ ابھرتی معیشتوں کے سربراہ اجلاس کا جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ بھارت کے لیے سونے پر سہاگہ بن گیا۔
پچھلے کئی مہینوں سے سنا جا رہا تھا کہ امریکا کی افغانستان کے حوالے سے نئی پالیسی آنے والی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا یہ پالیسی پاکستان کے خلاف ہو گی اور ایسا ہی ہوا کہ پاکستان کے خلاف بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ رنگ لا کے رہا۔ افغانستان کے حوالے سے امریکا کی نئی پالیسی میں بھارت نے وہ تمام بڑے مقاصد حاصل کر لیے جس کے لیے وہ برسوں سے تگ و دو کر رہا تھا۔
صدر ٹرمپ نے پچھلے مہینے کی 21تاریخ کو امریکی ریاست ورجینیا میں فورٹ مائیر کے مقام پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس بات پر زیادہ دیر خاموش نہیں رہ سکتے کہ پاکستان دہشتگردوں کے لیے محفوظ جنت بنا رہے۔ اس صورت حال کو تبدیل ہونا ہو گا اور فوراً تبدیل ہونا ہو گا۔ امریکا بھارت کے ساتھ اسٹرٹیجک پارٹنر شپ میں مزید اضافہ کرے گا۔ اس میں قابل غور لفظ فوراً ہے۔ جو اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ خطرات ہماری سوچ سے بھی زیادہ نزدیک آ گئے ہیں۔
پہلے کہا جا رہا تھا کہ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے لیکن نئی امریکی پالیسی کے اعلان کے بعد گھیرا تنگ ہو چکا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کا نان نیٹو اتحادی کا درجہ ختم ہو سکتا ہے ‘امریکی وزیر خارجہ دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے پاکستانی ایٹمی تنصیبات پر عدم تحفظ کا اظہار کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ دہشتگرد پاکستانی ایٹمی تنصیبات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ جب بھی پاکستان کو دباؤ میں لانا مقصود ہوتا ہے امریکی اس الزام کو ضرور دہراتے ہیں۔
امریکی اعلیٰ عہدیداروں کے تو الزامات یہاں تک ہیں کہ ان کے پاس پاکستان میں موجود دہشتگردوں کے خفیہ ٹھکانوں کے نقشے بھی موجود ہیں۔ ان امریکی اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے جو طریقے اختیار کیے جائیں گے ان میں امریکی امداد کی بندش۔ دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے، آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے سخت معاشی پابندیاں عائد کرنا اور یہاں تک کہ بذات خود امریکا پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کر سکتا ہے۔
امریکی صدر منتخب ہونے سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان اور عراق میں فوجی مداخلت کے خلاف تھے اور افغانستان سے امریکا کا فوجی انخلا چاہتے تھے لیکن صدر منتخب ہونے کے بعد امریکی اسٹیبلشمنٹ نے افغانستان کے قدرتی وسائل کے حوالے سے انھیں ایسی پٹی پڑھائی کہ انھوں نے اپنے ارادے بدل ڈالے۔ امریکا کی نئی افغان پالیسی کے مضمرات کتنے سنگین ہیں۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس پالیسی کے اعلان سے پہلے اس پر طویل غور خوض کیا گیا جس میں امریکی وزیر دفاع اور قومی سلامتی کے مشیر، اہم فوجی کمانڈرز اور کابینہ کے ارکان نے کیمپ ڈیوڈ میں اس کی منظوری دی۔
یہ تمام صورت حال اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ امریکا اس معاملے میں اکیلا نہیں بلکہ پوری دنیا اس کے ساتھ ہے۔افغانستان میں امریکا کی جنگ بظاہر ناکام ہے‘ دو ہزار ارب ڈالر کی انتہائی کثیر رقم اس خوفناک جنگ پر خرچ ہو چکی ہے‘ کئی لاکھ افغان مارے گئے‘ امریکا اور اتحادی ممالک کے باشندے بھی ہلاک ہوئے لیکن صورت حال جو ابتدا میں تھی آج بھی وہی ہے۔
اس طویل ناکام جنگ نے امریکی معیشت کو کھوکھلا کر دیا۔ یہ معاشی بحران ہی تھا جس کے نتیجے میں ڈیموکریٹس کو غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا تو دوسری طرف افغانستان اور پاکستان میں دہشتگردی کے حوالے سے بحران کنٹرول سے باہر ہو گیا۔ چنانچہ پاکستان‘ افغانستان‘ عراق‘ شام‘ لیبیا‘ لبنان اور باقی مشرقی وسطیٰ میں دہشتگردی کے سوا کچھ نہیں۔
حیرت انگیز اتفاق یہ ہے کہ پچھلے مہینے کے آخر میں صدر ٹرمپ نے امریکی تجزیہ نگاروں کے مطابق جو پاکستان مخالف گرہن زدہ بیان دیا اس کے ٹھیک 13ویں دن دنیا کی پانچ ابھرتی ہوئی معیشتوں کی تنظیم برکس نے بھی وہی مطالبہ پاکستان سے کر دیا جو صدر ٹرمپ نے پاکستان سے کیا ہے۔ برکس تنظیم نے کانفرنس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جس میں دہشتگرد تنظیموں کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا دہشتگردی میں ملوث ان کا انتظام کرنے یا حمایت کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
43صفحات پر مشتمل اعلامیے میں دنیا میں کام کرنے والی گیارہ دہشتگرد تنظیموں کا ذکر کیا گیا ہے جس میں تحریک طالبان، پاکستان حقانی نیٹ ورک، داعش، القاعدہ، جیش محمد اور لشکر طیبہ شامل ہیں۔ برکس ممالک میں بھارت‘ جنوبی افریقہ‘ برازیل‘ روس اور چین شامل ہیں۔ غور طلب اور انتہائی پریشان کن امر یہ ہے کہ مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کرنے والوں میں روس اور چین بھی شامل ہیں۔ حالانکہ برکس کے گزشتہ اجلاس میں چین نے مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان میں پائے جانے والے گروہوں کا نام شامل نہیں ہونے دیا تھا تو سوال یہ ہے کہ اب کیا بات ہو گئی کہ چین بھی اس مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کرنے والوں میں شامل ہو گیا۔ حالانکہ یہ چین اور روس ہی تھے کہ جب صدر ٹرمپ نے پاکستان مخالف پالیسی کا اعلان کیا تو پاکستان کا ساتھ دینے اور امریکا کی مذمت کرتے ہوئے چین اور روس پیش پیش تھے۔
اس وقت دہشتگردی ایک ایسا عفریت بن چکی ہے جس سے پوری دنیا خوفزدہ ہے۔ جو ممالک ابھی تک دہشتگردی کی زد میں نہیں آئے وہ بھی کسی وقت آ سکتے ہیں۔ دہشتگردی دنیا میں کہیں بھی اور کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔ چین اور روس تو پہلے ہی سے اس دہشتگردی کو بھگت رہے ہیں۔ دہشتگردی کے حوالے سے زمینی حقائق ہیں تو دوسری طرف امریکا کا عالمی اثرورسوخ کہ پاکستان کا چین جیسا دوست ملک بھی عالمی برادری کا ساتھ دینے پر مجبور ہو گیا۔
یہ بھارت کی واضع فتح ہے کہ وہ آخر کار چین کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب ہو گیا جس پر پورے بھارت میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ اتنی سفارتی بڑی کامیابی پاکستان کے خلاف بھارت کو طویل جدوجہد کے بعد آخر مل ہی گئی کہ امریکا برکس سمیت پوری دنیا نے ان کا موقف درست مان لیا۔ ہمارے پالیسی ساز اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ چین ہر محاذ پر ہمارا ساتھ دے گا۔ ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ چین اکیلا بیچارہ ہمارے لیے کس کس سے لڑائیاں لڑے۔
بھارتی وزارت خارجہ کی ایک عہدیدار نے مشترکہ اعلامیہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ برکس اجلاس میں دہشتگرد تنظیموں کے ناموں کو دستاویز کی شکل دی گئی ہے اور یہ بہت اہم پیشرفت ہے۔ یہ ہوتا ہے مذہب، مذہبی جنونیت اورا سٹرٹیجک گہرائی کو ہتھیار بنانے کا انجام…
دہشتگردی کے حوالے سے 2 018ء اور2 019ء انتہائی آزمائشی وقت ہے جس کا آغاز اس سال کے آخر سے ہو جائے گا۔
سیل فون:۔ 0346-4527997