مزمل سہروردی

نیب کے ریفرنس اور حکومتی عہدہ

سب کہہ رہے ہیں کہ اسحاق ڈار مشکل میں ہیں۔ لیکن شاید وہ ماننے کو تیار ہی نہیں۔ ان کے پاس پہلے جو ذمے داریاں تھیں‘ ان میں سے کئی اب ان کے پاس نہیں ہیں‘ نیب نے ان کے خلاف سپریم کورٹ کی ہدایت پر ریفرنس فائل کر دیا ہے لیکن وزارت خزانہ کا قلمدان تاحال ان کے پاس ہے۔ اس میں شاید حکومت کی مجبوری ہو تاہم مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ کون انھیں یہ سمجھا رہا ہے کہ وزارت خزانہ کا قلمدان ان کی مشکلات میں کسی بھی قسم کی کمی کر سکتا ہے۔
سب کے سامنے ہے کہ وزارت عظمیٰ نے نواز شریف کی مدد نہیں کی۔ تو پھر وزارت خزانہ ان کی کیا مدد کر سکتی ہے۔ جب نواز شریف وزارت عظمیٰ چھوڑ کر اپنے بہترین دفاع کی پوزیشن میں آگئے ہیں تو کیا اسحاق ڈار وزارت خزانہ چھوڑ کر اپنے بہترین دفاع کی پوزیشن میں نہیں آجائیں گے۔ بہرحال یہ ایک رائے ہے‘ ہو سکتا ہے معروضی حالات کے مطابق نہ ہو۔
اسحاق ڈار صاحب نے ایک بہترین سیاسی اننگ کھیل لی ہے۔ جب نواز شریف وزیراعظم تھے‘ ملک کے تمام بڑے سیاسی فیصلوں میں بھی وہی آگے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات میں بھی وہ ہی آگے تھے۔ وہ ہر جگہ تھے۔ ان کے بغیر کوئی فیصلہ بھی ممکن نہیں تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ انھوں نے شاندار اننگز کھیلی ہے لہٰذا اس کا اختتام بھی شاندار ہونا چاہیے۔ اسحاق ڈار ایک مذہبی دیندار اور بزرگان دین کے ماننے والے انسان ہیں۔
میرا ذاتی خیال ہے کہ ان کو با عزت طریقے سے اقتدار چھوڑنے کا راستہ تلاش کرنا ہو گا تاکہ اپنی ساری توجہ نیب ریفرنس پر دے سکیں۔ معاشی حکمت عملی کے حوالے سے عوامی رائے بھی شاید ان کی پالیسیوں کے حق میں نہیں ہے‘ بلاشبہ وہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ اچھی ڈیل کر لیتے ہیں لیکن معاشی حکمت عملی پر عوام مختلف رائے رکھتے ہیں۔
2013ء کے انتخابات کے بعد پاکستان کی عوام کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے بہت سے امیدیں تھیں۔ یہ کہا جاتا تھا کہ پیپلزپارٹی کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ معاشی پالیسیوں کی ناکامی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ پیپلز پارٹی والے ملک کے مالی معاملات کو ٹھیک طرح سے نہیں چلا سکے۔ ن لیگ کو زعم تھا کہ اس کی حکومت آئی تو معیشت مضبوط ہو گی اور ترقی کا سفر شروع ہو جائے گا۔ سب سے بڑا مسئلہ آئی پی پی کی پے منٹ کا تھا۔ ن لیگی اس کو پیپلز پارٹی کی ناکامی بتاتے تھکتے نہیں تھے۔ وہ تو ایسا ظاہر کر رہے تھے کہ یہ مسئلہ نہیں بلکہ نا اہلی ہے۔
اسی لیے جب مسلم لیگ ن کی حکومت برسراقتدار آئی تو اس نے سب سے پہلے پیپلزپارٹی دور کے آئی پی پی کے بقایاجات ادا کیے۔ یہ کہا گیا کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کے لیے یہ ادائیگیاں ملک و قوم کے مفاد میں ہیں اور پھر ان ادائیگیوں کا تسلسل برقرار رکھنے کا حکومت کے پاس کوئی پلان نہیں تھا۔ اور آج دیکھیں تو آج تک یہ حل نہیں ہو سکا ۔آئی پی پیز کی ادائیگیوں کا اژدہا پھر ویسے ہی منہ پھاڑے کھڑاہے۔ مسلم لیگ ن کی معاشی حکمت عملی کہاں گئی۔
اسی طرح بجلی کی قیمت کے حوالے سے بھی مسلم لیگ کی حکومت نے ایک شور مچا یا کہ پاکستان میں بجلی کی قیمت بہت کم ہے۔ اتنی کم قیمت پر بجلی کا معاملہ حل ہی نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے اقتدار سنبھالتے ہی ن لیگ کی حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔ یہی بتا یا گیا کہ اس اضافہ کے بعد آئی پی پیز کی ادائیگیوں کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ لیکن سب ناکام۔ بجلی بھی مہنگی ہوئی اور مسئلہ بھی وہیں کا وہیں کھڑا ہے۔
اسی طرح پاکستان میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے بھی حکمت عملی مکمل ناکام رہی ہے۔ بینکوں میں چیک پر ٹیکس نے کاروباری طبقہ اور بینک کے درمیان تعلقات کمزور کر دیے ہیں۔ کاروباری لوگ اب لاکھوں ہی نہیں کڑوروں روپے نقد رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں، اور بینک میں جمع کروانے سے اجتناب کرتے ہیں۔ ڈار صاحب کا یہ طریقہ بھی پاکستان میں ٹیکس بیس بڑھانے میں کامیاب نہیں ہوا۔
ڈالر کی روپے کے مقابلے میں شرح تبادلہ بھی اسی طرح ہے جیسے پیپلز پارٹی کے دور میں تھی‘ اس پر بھی قابو نہیں پایا جا سکا۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف پر عمران خان کی تنقید یہ ہے کہ ان کے بچوں کی جائیدادیں بیرون ملک ہیں‘ مسلم لیگ ن میں کئی اور بھی ایسے رہنما ہیں جن کے کاروبار اور بچے بیرون ملک مقیم ہیں۔ اسحاق ڈار کے بچوں کی بھی پاکستان سے باہر جائیدادیں اور کاروبار ہیں۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ان پر ریفرنس سچے ہیں۔ اور نہ ہی میرا یہ موقف ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ سچ اور جھوٹ کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ لیکن کیا یہ راستہ بہتر نہیں ہے کہ جس پر بھی نیب نے مقدمات بھیجے ہیں‘ وہ حکومت سے الگ ہو جائے‘ ایسا کرنے سے ان کی اور ان کی جماعت کی نیک نامی میں اضافہ ہو گا۔ اور ان کے لیے بھی آسانیاں پیدا ہو نگی۔