تنویر قیصر شاہد

کرکٹ اور ضمنی انتخاب کے تازہ لاہوری میلے

ستمبر2017ء کے دوسرے اور تیسرے ہفتے کے دوران لاہور شہر میں دو بڑے اور اہم ’’میلے‘‘ سجنے والے ہیں۔ دونوں کو امن کی ہمرکابی میں کامیاب بنانے کے لیے تمام قیادتیں اور قوتیں ایک پیج پر ہیں۔ پنجاب کی صوبائی اور اسلام آباد میں بروئے کار مرکزی حکومت، دونوں ہی، ان میلوں کی کامیابیاں سمیٹ کر سیاسی حریفوں پر اپنی بالا دستی قائم کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔
17 ستمبر2017ء کو لاہور کے حلقہ این اے 120میں ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔ یہ نشست جناب نواز شریف کی تھی جہاں سے وہ تین بار کامیاب ہُوئے اور تینوں بار پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔ یوں یہ حلقہ انتخاب اُن کا محسن بھی ہے اور نواز شریف خاندان کے لیے اُسی طرح اہم ہے جس طرح اُتر پردیش (بھارت) میں ’’امیٹھی‘‘کا حلقہ اندراگاندھی خاندان کے لیے اہم ترین حیثیت رکھتا ہے۔ اِسے لاہور کے حلقہ این اے 120 کے ووٹروں کی عجب قسمت سمجھئے کہ اُن کے منتخب کردہ رکنِ اسمبلی اور وزیر اعظم (نواز شریف) کو عدالت نے نااہل قرار دے کرا قتدار سے نکال باہر کیا ہے۔
اب یہ نشست خالی ہُوئی ہے تو اِس پر جناب نواز شریف کی اہلیہ اور سابق خاتونِ اوّل، محترمہ کلثوم نواز، الیکشن لڑ رہی ہیں۔ اُن کے مدِ مقابل تحریکِ انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ ہیں جنہوں نے 2013ء کے عام انتخابات میں بھی میاں نواز شریف کے مقابلے میں الیکشن لڑا تھا اور پچاس پچپن ہزار ووٹ لیے تھے لیکن کامیاب نہیں ہو سکی تھیں۔ ڈاکٹر صاحبہ پی ٹی آئی کی انتھک، کمٹڈ اور بہادر خاتون ہیں۔
عمران خان کو مگر گزشتہ دو ماہ کے دوران جو دھچکے لگے ہیں، محسوس یہ ہوتا ہے کہ این اے 120کے 17ستمبر کے ضمنی الیکشن میں ان دھچکوں کے منفی اثرات ڈاکٹر یاسمین کو بھی بھگتنا پڑیں گے۔ مثلاً کے پی کے میں پی ٹی آئی کے سابق وزیر ضیاء اللہ آفریدی کا پیپلز پارٹی میں شامل ہونا۔کپتان پر پی ٹی آئی ہی کی ایک رکنِ اسمبلی عائشہ گلالئی کے مبینہ الزامات اور خیبر پختونخوا میں ڈینگی کا خاطر خواہ مقابلہ کرنے میں پی ٹی آئی کی واضح ناکامیاں این اے 120تک بھی پہنچ کر پی ٹی آئی کی ٹکٹ ہولڈر کو متاثر کریں گی۔
’’کے پی کے‘‘ میں ڈینگی کے مہلک حملوں کے دوران صوبائی حکومت نے جس سرد مہری اور لا تعلقی کا مظاہرہ کیا ہے، اِس نے بھی اس کے بہی خواہوں کو سخت مایوس کیا ہے۔ لوگوں نے افسوس اور حیرت سے یہ مناظر دیکھے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ڈینگی حملوں سے لوگ مررہے تھے اور عمران خان صاحب خیبرپختونخوا کی مثالی ترقی کی باتیں کر رہے تھے۔
این اے120 میں ضمنی انتخاب کی اصل امیدوار بیگم کلثوم نواز صاحبہ لندن میں ہیں جہاں اُن کی بیماری کا علاج کامیابی سے جاری ہے۔ جناب نواز شریف بھی اُن کی تیمارداری کے لیے لندن پہنچے۔ اسپتال میں اپنی بیگم کے بستر کے نزدیک کھڑے ہو کر عیادت کرنے کی جو پہلی تصویر ایک ہفتہ قبل شایع ہُوئی تھی، اس سے واضح ہوتا ہے کہ میاں بیوی کی محبت کیسی بے مثال ہے!! لندن میں اپنے صاحبزادگان کے ساتھ عید الاضحی کی نماز ادا کرنے سے قبل میاں صاحب نے کوئی سیاسی بات کرنے کے برعکس نہائیت درد مندی کے ساتھ اپنی اہلیہ محترمہ کے لیے دعائے صحت کی اپیل بھی کی تھی۔
لگتا ہے عوام کی دعائیں اللہ نے سُن لی ہیں کہ محترمہ کلثوم نواز تیزی سے صحتیاب ہو رہی ہیں۔ خبروں اور جناب شہباز شریف کی ٹویٹس کے مطابق، اُن کا آپریشن بھی سو فیصد کامیاب ہُوا ہے۔ حلقہ این اے 120میں اُن کی غیر موجودگی کے دوران محترمہ مریم نواز شریف نے جس خوش اسلوبی ،تندہی اور بہادری سے اپنی والدہ صاحبہ کی الیکشن کمپین کی ہے، اس نے بہت سوں کو حیرت میں مبتلا کر رکھا ہے۔یہ تو کہا جاتا رہا ہے کہ مریم نواز صاحبہ پسِ پردہ رہ کو اپنے والد گرامی کا اہم ترین کاموں میں ہاتھ بٹاتی ہیں لیکن اب این اے 120میں اُن کی تازہ ترین انتخابی تگ وتاز نے بھی اُن کی سیاسی اہلیتوں کو ثابت کر دیا ہے۔
یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ مریم نواز شریف نے اپنی والدہ کے لیے این اے 120میں جن قابلیتوں کے جوہر دکھائے ہیں، آٹھ نو ماہ بعد،2018ء کے عام انتخابات میں یہ تجربات پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی کے خوب کام آئیں گے۔ چند ہی روز قبل لاہور کے سیکرڈ ہارٹ کتھیڈرل میں مریم نواز صاحبہ کو مسیحی برادری نے جو شاندار استقبالیہ دیا ہے اور بڑے پادری صاحب نے انھیں جن دعاؤں سے نوازا ہے، اس سے بھی اُن کی پبلک ریلیشننگ مہم کا پتہ چلتا ہے۔
لاہور میں ایک طرف تو این اے 120 کے ضمنی انتخاب کا میدان گرم ہے اور دوسری طرف کرکٹ کا میدان بھی سجنے والا ہے۔ اس کے لیے بھی تیاریاں عروج پر ہیں۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دنیا بھر کی نظریں اِن دونوں میدانوں پر لگی ہُوئی ہیں۔ایک طرف تو دنیا یہ دیکھنے کی متمنی ہے کہ جس وزیر اعظم کو پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے ایک متفقہ فیصلے کے تحت نااہل قرار دے کر اقتدار سے نکال باہر کیا، اُس (سابق) وزیر اعظم کی اہلیہ کو پاکستان کی عوام کس شکل میں پذیرائی بخشتی ہے۔اور دوسری طرف دنیا لاہور پر اس لیے بھی نظریں جمائے بیٹھی ہے کہ جس پاکستان کو امن وامان کے حوالے سے بوجوہ ’’مشکوک‘‘ قرار دیا جاتا ہے، اُس پاکستان کے دل میں ہونے والے ورلڈالیون کے میچ کس شکل میں اپنے انجام کو پہنچتے ہیں؟ یوں عوام کی بھی آزمائش ہے اور ہمارے حکمرانوں کی بھی۔
پاکستان بھر کے معتدل عوام کی خواہش ہے کہ دونوں ’’میدانوں‘‘ میں بہر حال امن کا پرچم پوری شان سے لہراتا رہنا چاہیے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ورلڈ الیون، کرکٹ کی نئی سرگرمیوں نے لاہور کی زندگی میں نئے سرے سے بجلیاں بھر دی ہیں۔ اِن ’’بجلیوں‘‘ کا نظارہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ لاتعداد لوگوں نے پچھلے ہفتے ہی سے قذافی اسٹیڈیم میں ہونے والے میچوں کے لیے پانچ سو سے لے کر آٹھ ہزار روپے مالیت کے ٹکٹ خرید کر رکھ لیے تھے، حالانکہ ورلڈ الیون نے گیارہ سے سولہ ستمبر تک لاہور میں رہنا ہے۔
اِن چھ ایام کے دوران تین ٹی ٹونٹی میچز قذافی اسٹیڈیم میں کھیلیں جائیں گے۔ شاندار اور فول پروف سیکیورٹی کا بندوبست کیا گیا ہے۔ جناب شہباز شریف اور عسکری قیادت نے لاہور ہی میں رواں برس، مارچ کے مہینے میں ،ہونے والے کرکٹ میچوں کو پُرامن ماحول میں کامیاب کروا کر ایک نیا سنگِ میل قائم کیا تھا۔ اب بھی سیاسی اور عسکری ادارے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر مقابلے کے لیے تیار ہیں تاکہ دنیا کو پاکستان کا دمکتا ہُوا چہرہ پھر سے دکھایا جاسکے۔پی سی بی کے اعصاب کا بھی امتحان ہے اور اس کے نئے چیئرمین کا بھی۔
افواجِ پاکستان نے لاہور میں آنے والے سات اہم ممالک کے چودہ عالمی شہرت یافتہ کرکٹروں کو جس اسلوب میں خوش آمدید کہا ہے، یہ بھی دنیا بھر کے لیے شاندارپیغام ہے۔ افواجِ پاکستان کے ترجمان، میجر جنرل آصف غفور، نے اس سلسلے میں اپنے ایک ٹویٹ میں یوں لکھا : We welcome Cricket Team World XI to Pakistan. Pakistanis are eagerly prepared to host them as a peace and sports loving nation . شنید ہے جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم سے ہماری سیکیورٹی فورسز کے جوان بھی ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں کو سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں۔یہ بھی امید رکھی جانی چاہیے کہ جناب عمران خان اِس بار ورلڈ الیون کے موقع پر ، حسبِ سابق، کہیں دوبارہ یہ نہ ارشاد فرمادیں کہ لاہور میں کرکٹ کے میچ کروانے کے لیے حکومت نے ’’ریلو کٹّے‘‘ اور ’’پھٹیچر‘‘ کھلاڑی بُلا لیے ہیں۔