ظہیر اختر بیدری

مظلوم روہنگیا انسان؟

کرۂ ارض پر انسانی تاریخ قتل و غارت گری اور خون خرابے سے بھری ہوئی ہے۔ اگر اس خون اور تاریخ کا ذرا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس قتل و غارت اور خون خرابے کی اصل وجہ انسانوں کی مختلف حوالوں سے تقسیم ہے۔ برما میں روہنگیا انسانوں کا قتل عام کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، یہ برسوں سے جاری بہیمانہ رویوں کا تسلسل ہے۔
یہ کس قدر شرم اور افسوس کی بات ہے کہ انسان اپنے آپ کو خود کئی خانوں میں تقسیم کرلیتا ہے اور اس تقسیم کو جواز بناکر ایک دوسرے سے نفرت کرتا ہے، ایک دوسرے کے گھروں کو آگ لگاتا ہے، ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے۔ برما میں روہنگیوں کا قتل اس لیے ہورہا ہے کہ انھوں نے روہنگیوں کے ساتھ ’’مسلمانوں‘‘ کی اضافت لگالی ہے اور اسی اضافت کی وجہ فلسطین اور کشمیر میں بھی مسلمان ظلم کا شکار ہورہے ہیں۔
اگر انسان کے ساتھ اضافت نہ ہوں تو شاید انسانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف دنیا بھر کے انسان احتجاج کرتے لیکن ان اضافتوں کی وجہ سے روہنگیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف عموماً مسلم ملکوں ہی میں احتجاج ہورہا ہے اور پاکستان چونکہ اسلام ہی کے نام پر وجود میں آیا ہے لہٰذا فطری طور پر یہاں زیادہ شدید احتجاج ہورہا ہے۔ یہ احتجاج بلاشبہ ایک فطری تقاضا ہے لیکن جب وہ شدت اختیار کرلیتا ہے تو نہ صرف مزید خون خرابے کا باعث بن جاتا ہے بلکہ اس تقسیم کو بھی اور گہرا کردیتا ہے جو انسان نے اپنے ہاتھوں سے اپنی مرضی سے کی ہے۔
برما میں ایک طویل عرصے تک فوجی آمریت کے خلاف لڑائی ہوتی رہی، اس لڑائی کی قیادت مادام سوچی نے کی۔ سوچی نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ’’جمہوریت‘‘ کے حصول کی جدوجہد میں گزارا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ سوچی کی ان ہی قربانیوں کی وجہ سے انھیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ روہنگیوں پر ہونے والے مظالم سوچی نہیں رکوا سکیں جس کی وجہ سے پاکستان کے جانباز مطالبہ کررہے ہیں کہ سوچی سے نوبل انعام واپس لیا جائے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسانوں کے جمہوری حقوق کی تاریخی لڑائی لڑنے والی سوچی روہنگیوں پر ہونے والے مظالم پر کیوں خاموش ہے؟ وہ ان مظالم کو مدتوں سے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے پھر بھی خاموش ہے۔ کیا سوچی بھی اس انسانی تقسیم کا شکار ہوگئی ہے جو کہیں برمی روہنگی بن کر انسانوں کو خون میں نہلارہی ہے، کہیں کشمیری اور فلسطینی بن کر حکومتوں کے مظالم کا شکار ہورہی ہے۔
انسان کو جانے اس کی کن خوبیوں کی وجہ سے اشرف المخلوقات کے خطاب سے نوازا گیا۔ حالانکہ کرۂ ارض پر وہ درندوں سے زیادہ درندگی کا مظاہرہ کرتا آرہا ہے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جنگیں دنیا کی منڈیوں پر قبضے کے لیے لڑی گئیں۔ ہوسکتا ہے یہ تاویل درست ہو لیکن یہ جنگیں بھی بنیادی طور پر انسانوں کی تقسیم ہی کا نتیجہ تھیں۔
آج شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان جنگ کے جو خدشات پیدا ہوگئے ہیں اور دنیا کے اہل دانش ان خدشات سے اس لیے بدحواس ہورہے ہیں کہ خوانخواستہ شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان جنگ چھڑ جاتی ہے تو یہ جنگ روایتی ہتھیاروں کی جنگ نہیں ہوگی بلکہ اس جنگ میں ایٹمی ہتھیار استعمال ہوںگے اور یہ ایٹمی ہتھیار ان ایٹمی ہتھیاروں سے بہت زیادہ طاقتور ہوںگے جو دوسری عالمی جنگ میں امریکا نے ہیروشیما اور ناگاساکی میں استعمال کیے تھے۔
امریکا اپنے قومی مفادات اور قومی برتری کو تحفظ دینے کے لیے ماضی میں بھی جنگوں کا ارتکاب کرتا رہا ہے اور وہ اب بھی جنگیں لڑسکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوریائی عوام ایک قوم ہیں، انھیں جنوبی اور شمالی میں کیا خدا نے تقسیم کیا؟ نہیں انھیں انسانوں ہی نے تقسیم کیا اور اسی تقسیم کو بنیاد بناکر آج ایٹمی جنگ کے دہانے پر کھڑے نظر آرہے ہیں۔
روہنگیوں اور برمی بدھوں کے درمیان آج جو خون خرابہ ہورہا ہے وہ اگرچہ مذہب کے حوالے سے ہورہا ہے یا قومیت کے حوالے سے ہورہا ہے لیکن اس کی بنیادی وجہ بہرحال انسانوں کی تقسیم ہی ہے۔ اس تقسیم نے ہمیشہ انسانوں کو حیوانوں سے بدتر بنادیا۔
1947ء میں ہندوستان تقسیم ہوا یہ تقسیم محض زمین کی تقسیم نہیں تھی یہ بنیادی طور پر عقائد کی تقسیم تھی اور اس عقائدی تقسیم نے انسان کو کس قدر وحشی بنادیا اس کا اندازہ اس بہیمانہ قتل عام سے کیا جاسکتا ہے جس سے ایک اندازے کے مطابق 22 لاکھ انسان انتہائی وحشیانہ انداز میں قتل کردیے گئے۔
اس بربریت کا عالم یہ تھا کہ بچوں کو ماؤں کے پیٹ چیر کر باہر نکال کر قتل کردیا گیا۔ آج اخبارات کی سرخیاں چیخ رہی ہیں کہ برما میں روہنگی معصوم بچوں کو اسی بے دردی سے قتل کیا جارہا ہے جس بے دردی سے 1947ء میں بچوں کو قتل کیا گیا تھا۔ 82 روہنگی بچوں کو انسان نما شیطانوں نے اب تک قتل کردیا ہے۔
پاکستان میں روہنگیوں کے قتل کے خلاف بڑے شدید جذبات پائے جاتے ہیں۔ خاص طور پر مذہبی حلقوں میں بڑے شدید جذبات دیکھے جاسکتے ہیں۔ کشمیر میں 80،70 ہزار کشمیری مسلمان اب تک مارے جاچکے ہیں۔ فلسطین میں اب تک لاکھوں فلسطینی قتل ہوچکے ہیں، کشمیر میں یہ قتل و غارت حق خود اداری کے حوالے سے ہورہی ہے۔
اسرائیل مذہبی تقسیم کی وجہ سے وجود میں آیا۔ یہودیوں کا کوئی وطن نہ تھا ہٹلر کے مظالم نے یہودیوں کو دربدر کردیا ان دربدر ہونے والے یہودیوں کو اپنا ایک وطن چاہیے تھا۔ سامراجی ملکوں نے یہودیوں کو ایک وطن تو دلادیا لیکن فلسطینیوں کو اس طرح دربدر کردیا جس طرح یہودی دربدر ہوگئے تھے۔ کیا کوئی یہودی فلسطینیوں کی دربدری کے دکھ کو محسوس کرسکتا ہے؟
بڑی طاقتیں اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی جنگوں میں اس قدر مصروف ہیں کہ انھیں نہ روہنگیوں پر ہونے والے مظالم پر غور کرنے کی فرصت ہے نہ اقوام متحدہ ان ’’چھوٹے چھوٹے‘‘ مسائل پر پوری توجہ دے سکتا ہے۔ دنیا کے تقسیم شدہ انسانوں میں 90 فیصد تعداد ان غریب انسانوں کی ہے جو اپنی ساری زندگی اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے ہی میں لگادیتے ہیں۔ دنیا کی معیشت دنیا کی دولت پر قابض دو فیصد شیطانوں کو ان مسائل سے کوئی دلچسپی اس لیے نہیں ہے کہ ان کی نوابی، ان کی عیش و عشرت کی زندگی غریب انسانوں کی تقسیم ہی کی مرہون منت ہے۔
ماضی میں لڑی جانے والی ساری جنگیں ماضی اور حال میں انسانوں کے بہائے جانے والے خون کا اصل اور بنیادی سبب انسانوں کی کسی نہ کسی حوالے سے تقسیم ہی ہے انسانوں کی اصل اور فطری تقسیم صرف دو حوالوں ہی سے کی جاسکتی ہے، ایک رنگ، دوسرے نسل، اس تقسیم کے علاوہ تمام تقسیمیں غیر حقیقی اور انسانوں کے درمیان نفرتیں پیدا کرنے اور انھیں ایک دوسرے کو قتل کرنے کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔
روہنگی انسان پہلے ہیں اور مسلمان بعد میں، اگر دنیا میں انسانوں کی شناخت انسان کے حوالے سے کرنے کا چکر مضبوط اور مستحکم کیا جائے تو انسانوں کے درمیان نہ جنگوں کا خطرہ رہے گا، نہ خون خرابے کی ضرورت رہے گی۔ دنیا کے مذہبی حلقے روہنگیوں پر ہونے والے مظالم کو مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی حیثیت سے دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے نفرتوں میں اضافہ ہوتا ہے اگر دنیا کے انسان روہنگیوں کو انسان کی حیثیت سے دیکھنے لگیں تو روہنگیوں کا مسئلہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ ساری دنیا کے انسانوں کا مسئلہ بن جائے گا اور ساری دنیا کے انسان روہنگیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف سراپا احتجاج بن جائیںگے لیکن یہ وقت ابھی دور ہے۔