سید نور اظہر جعفری

بند گلی!

ایک کردار انجام کو پہنچا، اس کے ساتھ کے کردار بھی اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائیں گے، اس کردار نے پاکستان کو جہاں رسوائی دلوائی وہاں پاکستان کے کچھ اداروں اور پاکستان کی عدلیہ نے یہ بھی ثابت کردیا کہ:
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
میں پاکستان کو ہمیشہ مملکت خداداد پاکستان لکھتا پڑھتا رہا ہوں، میری عمر کے لوگ جن کی عمریں پاکستان کی عمر کے برابر یا اس سے زیادہ ہے وہی اس کا بہتر مطلب سمجھ سکتے ہیں، مگر ہمیں یہ حقیقت اپنے نوجوانوں تک بھی منتقل کرنی چاہیے کہ وہ جس ملک کے وارث ہیں یہ خدا کا بنایا ہوا ملک ہے، جس کے لیے انسانوں نے جدوجہد کی تھی اور اللہ کی منظوری سے یہ ملک بنا ہے، بہت سے لوگ اس پر ناک بھوں چڑھائیں گے مگر آپ اس کی پرواہ نہ کریں کیونکہ یہ وہ طبقہ ہے جو کربلا میں بھی نظریاتی طور پر دوسری طرف کھڑا تھا اور اس نے دعوت حق کو نہیں مانا تھا اور بالآخر انجام کو پہنچے تھے۔ آپ دیکھ لیں، کشمیر، فلسطین، الجزائر بہت سے ممالک سب اسلامی کس جگہ ہیں چاہے ملک ہیں یا علاقے، منظوری نہیں آتی ہے۔
جوں ہی منظوری آجائے گی اس کے دشمن اسے یا کسی کو بھی قائم کردیں گے۔ آزاد ہوجائیں گے یہ علاقے جبر و ستم سے۔ جبر و ستم کا بڑھنا بھی کبھی کبھی مسئلے کے حل کی طرف جانے کی علامت ہوتا ہے ہمیشہ نہیں تو کبھی نہ کبھی ایسا ہوتا ہے۔
تو منظوری ضروری ہے اور وہ کیوں اور کیسے یہ ایک بہت گہرا مسئلہ ہے اور مجھ جیسا ایک ہنوز طالب علم اس پر بھلا کیا قلم آرائی کرسکتا ہے۔
سب کی ہے تم کو خبر اپنی خبر کچھ بھی نہیں
میری نظر میں کالم ایک گفتگو ہے۔ میں بات کر رہا ہوں آپ سن رہے ہیں، بذریعہ پڑھ رہے ہیں۔ آپ کے وہ سوالات جو آپ مجھ سے براہ راست اس گفتگو میں نہیں کر رہے مگر کر رہے ہیں کیونکہ میں خود ہی سوال اور جواب کے ذریعے آپ کی بات سن رہا ہوں اور جواب بھی عرض کر رہا ہوں۔
یہ بھی ایک مشکل تصور اور خیال ہے اور فلسفے اور منطق تو اس کو مان لیں گے، لوگ نہیں مانیں گے، مجھے کئی بار یہ مشورہ لکھنے والوں نے دیا کہ آپ ایک ہی مضمون میں بہت ساری باتیں نہ کیا کریں۔ اب ان کے کہنے میں ہی ان کا جواب موجود ہے کالم میری نظر میں ایک گفتگو ہے اور یہ میری تعریف ہے کسی کتاب کا سبق نہیں ہے۔
تو جب آپ گفتگو کرتے ہیں تو رومانس سے شروع ہوکر راکٹ سائنس تک کی گفتگو ہوجاتی ہے۔
میری نظر میں کالم ایک دریا یا چشمہ ہے۔ جو آپ لفظ اچھا سمجھیں رکھ لیں اور جب ایک بہاؤ کے تحت کوئی بھی چیز سفر کرتی ہے تو وہ مختلف مقامات سے گزرتی ہے جہاں کے Dynamics الگ الگ ہیں کہیں سلاست روی ہے، کہیں سنگلاخ علاقہ تو خیال اور سوچ کو گزرنا سب جگہ سے ہے۔
اگر کسی ایک جگہ ٹھہر کر بس اس کی خوبصورتی اور بدصورتی بیان کی جاتی رہے تو یہ میرے خیال میں خیال کی فرسودگی ہے اور Static انداز تحریر ہے، میں غلط ہوسکتا ہوں، انسان ہوں تو ایسا تو ہوگا خیر یہ ایک طویل اور جدا موضوع ہے اسے فی الحال چھوڑ دیتے ہیں۔
پاکستان ایک نعمت ہے، اب ہندوستان کے حالات دیکھ کر لوگوں کو مان لینا چاہیے۔ پاکستان نے اپنے ہونے اور بننے کا جواز دے دیا ہے۔ مگر وہ علاقہ جو پاکستان کے تصور کے خلاف رہا یا اس علاقے کے لوگ سکندر حیات، اس زمانے کا ایک معروف نام ہے، وہیں سے پاکستان کو نقصان پہنچا، تازہ واقعہ ملاحظہ کرلیجیے وہاں کی رئیسانہ طبیعت اور مال و زر کی ہوس کو تو بڑے بزرگ بھی پورا نہ کرسکے ورنہ ان کی ذات کا ہونا وہاں ایک عظیم خزانہ ہے اور کیا چاہیے۔ مگر لاہور!
کچھ لفظ مزہ دیتے ہیں جیسے کہ یہ لاہور، نام تو شہر کا ہے مگر اس سے ایک ذہن کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ تاریخ کے اعتبار سے سب سے زیادہ جس علاقے نے بیرونی حملہ آوروں کی یورش سے فائدہ اٹھایا وہ یہی علاقہ ہے۔ کسی فاتح کو یہاں کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ کچھ لو، کچھ دو کے اصول پر ہمیشہ حملہ آوروں سے سودے بازی ہوئی اور فائدے میں برصغیر کا یہ علاقہ سب سے زیادہ رہا۔
مگر تاریخ تبدیل بھی ہوتی ہے۔ ستر سال کے بعد سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی نے شاید قدیم تاریخ کو بھی بدل دیا۔ سلام ہے دونوں کو۔ آرزو تھی کہ ہم بھی دیکھیں گے۔ اور دیکھ لیا۔ تخت و تاج گرایا گیا۔ اس مہم کے مہم جوؤں کو سلام وہ چاہے ایک تھا یا ایک جماعت۔
ایک بات پاکستانیوں کو یاد کرلینی چاہیے اپنی تاریخ سے۔ اسلامی دنیا میں کرپشن کوئی نئی بات نہیں، ہر بادشاہ اس میں مبتلا نظر آئے گا، صرف عباسی دور کو ہی پڑھ لو دیانتداری اور غیر جانبداری سے علم ہوجائے گا، کرپشن ہر قسم کی اس کے پہاڑ ہیں مگر تحریروں میں کرپشن کرنے والے تو اس بادشاہ کو عظیم قرار دیتے ہیں جس نے سارے بھائیوں کو اقتدار کے لیے ماردیا۔ باپ کو قید کردیا۔ اذیت ناک قید، وہ قید میں مر گیا اور کہتے ہیں کہ بادشاہ ٹوپیاں سی سی کر گزارا کرتا تھا۔
جانے والے کو بھی لوگ ایسا ہی بادشاہ قرار دیتے تھے۔ سپریم کورٹ کے باہر اور جہاز کے ڈوبنے کا اندیشہ ہوتے ہی چوہے فرار کا راستہ ڈھونڈنے لگے۔ کچھ تو اس وقت فرار ہوگئے تھے سپریم کورٹ کے باہر اداسی تھی۔
ہماری آیندہ نسل کو ایسے لوگوں سے بادشاہوں سے اور ان کے ملازمین سے ہوشیار رہنا ہوگا اور اگر ایک ہی کھال اوڑھ کر کوئی دوسرا آنے کی کوشش کرے تو اس سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا۔ یہ ملک آپ کا ہے، آپ کا ہی رہنا چاہیے کسی Class کا نہیں بننا چاہیے۔ یہاں صرف ایک کلاس ہونی چاہیے Pakistani For Pakistan پاکستان کے لیے پاکستانی ہونا۔ اس میں سب کچھ پہلے۔ دین بھی دنیا بھی۔ دین اور دنیا دونوں اتحاد سکھاتے بتاتے ہیں۔ اپنے خیالات اور عمل دونوں کو پاکستانی رکھنا چاہیے ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک۔ فوج کی طرح قوم میں ڈسپلن ہو اور ملک کے لیے مر مٹنے کا حوصلہ پھر کیا ترکی کیا کوئی اور ملک لوگ آپ کی مثال دیں گے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قوم کا وقار بلند ہوچکا ہے اسے اب آپ بلند رکھیں گے یہ آپ کا کام ہے۔ دنیا بند گلی میں جا رہی ہے۔ آپ اپنے ملک کو بند گلی میں جانے سے بچا سکتے ہیں۔ ’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور متفرق نہ ہوجاؤ ورنہ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔‘‘ یہ پیغام قیامت تک سچا ہے اور سچا رہے گا۔