کشور زہرا

پیار سے ہم نے بلایا تو برا مان گئے

22 اگست 2017 کو شہرکراچی میں منعقد ہونے والی آل پارٹیزکانفرنس APC کے میزبانوں کے کانوں میں ابھی تومعروف گلوکار محمد رفیع کے اس مقبول گیت:
پیار آنکھو ں سے جتایا تو برا مان گئے
حال دل ہم نے سنایا تو برا مان گئے
کی دھن اس سوچ کے ساتھ ابھی کانوں میں رس گھو ل ہی رہی تھی کہ سب اپنے آئیں گے تو یہ بھی آنکھو ں سے پیار بھی جتائیں گے اور پھر ان سارے لوگوں کے سامنے دل کا حال بھی کھول کے رکھ دیں گے، اپنی کہیں گے، ان کی سنیں گے، لیکن فرداً فرداً دعوت ناموں کی بہ نفس نفیس قبولیت کے بعد اس مشترکہ رَد دعوت نے کانوں کے رس میں ترشی سی شامل کردی کہ ایسا کیوں ہوا ؟ اورکیوں برا مان گئے ؟ ان کا کوئی قصور بھی تو بتایے۔
1 ۔ آیا کہ کیا میزبان کسی اورسیارے کی مخلوق ہیں؟
2 ۔ کیا برصغیر کے قدیم کلچر جس میں ذات پات جیسی درجہ بندیاں تھیں ، جن میں کسی ذات کی قبولیت تھی اورکسی کی نہیں بھی، کیا ان کاکسی ایسی ہی ذات سے تعلق جوکسی کو قبول ہی نہیں؟
3 ۔ آیا کہ یہ فرزند زمین نہیں ؟ یا اپنے نام متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی مناسبت کے ساتھ ہر زبان بولنے والے اورکلچر سے وابستہ نمایندوں کواپنے دامن میں سمیٹے ہوئے نہیں؟
4 ۔ کیا ان کو حاصل عوامی حمایت پر اعتراض ہے ؟ اور ہے توکیوں؟
5 ۔ کیا یہ ایسے نظام کو شکست دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں جس نے انسانوں کی درجہ بندیاں کردیں۔
6 ۔کیا یہ بھی ان کی غلطی تھی کہ انھوں نے مذہبی منافرت کو ختم کرنے کی آواز اٹھائی، جس منافرت نے کرا چی سے خیبر تک وطن عزیزکو جھلسا کر رکھ دیا جس کے سبب نہ صرف لاتعداد معصوم شہری شہید ہوئے بلکہ عوام کو تحفظ فراہم کر نے کے لیے عسکری توانائی بھی خرچ ہوئی جس میں سرحد کے پاسبانوں کو جام شہادت نوش کرنا پڑا ۔
7 ۔ کیا عوامی نمایندگی کے اعتبار سے ان کا پلڑا بھی ایک سیا سی وزن ر کھتا ہے؟
8 ۔کیا ان میں شہری نظا م کو چلانے کی صلاحیت ہے؟
9 ۔ کیا ان کے مفاہمانہ رویے سے ہم آہنگی اور بھائی چارگی کو مزید تقویت ملنے کے امکانات ہیں؟
10 ۔کیا ان کا قصور یہ ہے کہ یہ پاکستا ن کی وسیع القلب ذہن ر کھنے والی لبرل سیاسی جماعت ہے؟
11 ۔کیا یہ بھی اس کی ایک اورغلطی ہے کہ یہ کراچی، حیدرآبا د کے علاوہ سندھ کے دیگر شہری علا قوں میں بسنے والے افراد تک رسائی رکھتی ہے اور ان کے مسا ئل کے حل کے لیے کو شاں بھی ہیں ۔
12 ۔ کیا یہ انصا ف کے طلبگار ہیں ؟
اب اگر مندرجہ با لاسطور پر اعترا ضنہیں تو شرکت نہ کر نے کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی ۔APC میں آنے سے انکارکرنے والی جماعتوں کو اب اخلاقی اور سیاسی سطح پر ایم کیوایم پر تنقید کرنے کا کوئی جواز نہیں کیونکہ انھوں نے دعوت کو قبول کرکے اور پھرآنے سے انکارکرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ نہ کرا چی سے ، نہ سندھ سے اور نہ ہی ملکی مسائل سے کوئی دلچسپی رکھتے ہیں ۔ اس کے علا وہ وہ وطن عزیز میں کسی افہا م و تفہیم کی فضا ء کو نہ ہموار دیکھنا چا ہتے ہیں جب کہ انتہائی ادب کے ساتھ کہ وہ وقت آ پہنچا ہے کہ اندرون ملک اور بیرون ملک تمام پالیسیز اور حکمت عملی پر مشاورت ہونی چاہیے ۔ قومی مفاد کو مدنظر ر کھتے ہو ئے پوری قوم کوحقیقی انصاف چاہیے تاکہ عوام اپنے بنیادی حق سے نہ محروم ہولیکن ایسی صورتحال میں بھی نہ ہی کوئی اپنا کردار ادا کرنے کے خواہش مندہیں بلکہ
خود غرضی ، مفاد پر ستی اور نفاق کو فروغ دینے پرعمل پیرا ہیں۔
ہاں، مدعو کرنے والی میزبان جماعت نے اگر وہ یہ سب کچھ غلط کرتی ر ہی تو بھی ۔ صحیح ہے تب بھی ۔ حقوق کے حصول کے لیے انہوں نے جو کچھ بھی کیا وہ سب کچھ اسی طرح کرتے رہیں گے کیونکہ پوری قوم کو ایک منصفانہ عمل ہی درجہ بندیوں سے بچاسکتا ہے ۔آپ آج نہیں آئے، کل آئیے سو بسم اللہ ۔ یہ وہ ہی کام کرتے رہیں گے جو قائداعظم اور ان کے رفقاء نے کیا ان ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آنے والی نسلوں کو درجہ بندیوں سے آزاد کرکے جینے کا حق دلوائیں گے جس کا قائداعظم محمدعلی جناح نے 1948 میں برملا اظہار کیا تھا۔ جس کی رو سے پاکستان میں بسنے والے ہرشخص کو وہ خواہ ہندو ہو مسلمان ہو، سکھ ، عیسائی یا پارسی ہو، شیعہ ہو سنی ہو یا کسی بھی صوبے سے تعلق رکھتے ہوں یا ہندوستان کے اقلیتی صوبوں سے جانی و مالی قربانیوں کو دے کے یہاں آباد ہوئے ہوں ان سب کے حقوق برابر ہیں ۔ حقوق کا حصول ہی وطن عزیزکی سلامتی کا ضامن ہے۔ ذی شعور لوگ ہی اس بات کواچھی طرح سے جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ان کے پا س یہ ہی زمین ہے جسے پاکستان کہتے ہیں، یہ ہی آسمان ہے جس کے سائے تلے بیٹھے ہیں، سو پاکستان زندہ باد، پاکستا ن پا یندہ باد۔