عطا ء الحق قاسمی

عمران خان کے شادی کے اشارے

ہمارے ہاں طنز و مزاح لکھنے والے بہت کم ہیں، خصوصاً سیاسی فکاہی کالم لکھنے والے تو ناپید ہوتے جا رہے ہیں، چنانچہ مجھے جب کبھی یہ متاع کم یاب کہیں نظر آتی ہے تو میرا دل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ ہمارے ایک دوست سید عارف مصطفیٰ جو کراچی میں مقیم ہیں، سیاست اور قیادت کے چکر میں پڑے رہتے ہیں، حالانکہ وہ اگر اپنا سکہ کہیں جما سکتے ہیں تو وہ مزاح نگاری ہے۔ ذیل میں ان کی فکاہی سیاسی پھلجڑیاں ملاحظہ کریں:۔
گلالئ نے عمران خان کے میسجز کےعلاوہ یہ بھی کہا ہے کہ وہ شادی کے اشارے دیا کرتے تھے ہم نے اب تک تو شادی کے پیغام کے بارے میں سنا تھا لیکن شادی کے اشارے کیا ہوتے ہیں اس سے آگاہی بالکل نہ تھی۔اس بات پر بہت غور کیا تو ہمیں یہ چندباتیں سمجھ میں آئیں جو اگر خان صاحب نے عائشہ جی سے اشارہ بازی میں کی ہوں تو انہیں شادی کی نیت کا بھرپور و بامعنی اشارہ سمجھا جاسکتا ہے۔
1۔ کیا آپ نے کبھی یہ بات سنی ہے کہ مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔
2۔ آج کل نکاح خواں کی فیس کیا چل رہی ہے، کیا تیسری شادی پر رعایت ملتی ہے۔
3۔ لفظ مہربان میں مہر کا کیا مطلب ہے اور اگر یہ معاف کرا لیا جائے تو بان کا کیا بنے گا۔
4۔ تبدیلی کی بات میں وزن لانے والے محاورے بھی بدلنے چاہئیں جیسے اندھا بانٹے ریوڑی کی جگہ چھوہارے کیسا رہے گا۔
5۔ خوبصورت لوگوں کے لئے رہنے کی صحیح جگہ بنی گالہ میں ہے۔
6۔ قوم کو مہنگائی سے بچانے کے لئے میں جہانگیر ترین سے سستے ابٹن کا پلانٹ لگوانے پر غور کررہا ہوں۔
7۔ میرے دو بچے بڑی شدت سے تیسرے کی کمی محسوس کرتے ہیں۔
8۔ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں مگر اس کے لئے آسمان پر جانے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
9۔ نئے پاکستان کی نئی خاتون اول کی خصوصیات کیا ہونی چاہئیں۔
10۔ میں پشاوری چپل پہنتا ہوں تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ جوتا چورائی کی رسم کے لئے نااہل ہے۔
سید عارف مصطفیٰ کے ایک مضمون ’’فیس بک کی کہکشاں‘‘ میں سے دو پیرے:۔
ہمارے ایک واقف جو جاگتی حالت میں کبھی لانڈھی سے بھی آگے نہیں گئے، اپنے فیس بک پیج پر درج کوائف کی رو سے لندن پلٹ ہیں، انہیں بی اے پاس ہوتا دیکھنے کا اشتیاق لئے ان کی سب پرانی نسل قبر میں جا سوئی….. لیکن فیس بک پر تو وہ متعدد ایسے علوم کے شناور معلوم ہوتے ہیں کہ جن کو پا لینے کی حسرت لئے سکندر بےنیل و مرام دنیا سے چلا گیا، سکندر جب گیا دنیا سے دونوں ہاتھ خالی تھے۔
فیس بک فراق و ہجر کی ماری زیادہ تر ایسی دوشیزائوں کی یادوں کا قبرستان ہے کہ جن کے ہرجائی بلمائوں کو بروقت صحیح مشورہ دینے والے میسر آگئے تھے، یا پھر وہ صبحدم ان کا منہ دیکھ لینے میں کامیاب رہے تھے۔
ویسے ان دنوں فیس بک پر بھی ایک سے ایک بڑھ کر مزاح نگار اور طنز نگار موجود ہے، مگر یہ درویش قسم کے لوگ ہیں اپنا نام ظاہر نہیں کرتے۔ ایک دو اقتباسات ان ’’گمنام شہیدوں‘‘ کے بھی ملاحظہ فرمائیں:۔
نعیم بخاری وہی ہے نہ جو عدلیہ بحالی تحریک کے خلاف مشرف کا وکیل تھا۔ غالباً بابر اعوان وہی ہے جو دوسو اسی ارب کرپشن کیس میں زرداری کو ڈیفنڈ کرتا رہا اور فواد چودھری شاید وہی، جو غداری کیس میں الطاف حسین کا بیرسٹرفروغ نسیم کا معاون وکیل تھا۔۔۔ واہ نیازی واہ چن چن کر وکیلوں کا انتخاب کیا۔۔۔!
تحریک انصاف پاکستان ۔۔یا تحریک کنفیوژڈ پاکستان:۔
1۔ جس کو پارٹی صدر بنایا بعد میں اسے نون لیگ کا ایجنٹ کہا۔ (جاوید ہاشمی)
2۔ جس کو بیوی بنایا اس کو ایم آئی سکس کا ایجنٹ کہا۔ (ریحام خان)
3۔ جس کو ایم این اے بنوایا پارٹی چھوڑنے پر اسے کرپٹ اور نون لیگ کی ایجنٹ اور چوبیس گھنٹے کی قیمت پر بکنے والی کہا۔ (عائشہ گلالئی)
4۔ جس نے پارٹی کارکنان کو کتا کہا اسے پارٹی کا ترجمان بنا دیا۔ (فواد چوہدری)
5۔جسے کرپشن کی اماں کہا اسے پارٹی میں مرکزی عہدہ دے دیا۔ (فردوس عاشق اعوان)
6۔ جسے چپڑاسی کہا اسے وزیر اعظم کا امیدوار بنایا۔ (شیخ رشید عرف ٹلی)
7۔ جسے جھوٹا کہا اسے بعد میں اپنا وکیل بنایا اور مرکزی عہدہ دیا (بابر اعوان عرف بابر …)
8۔قومی وطن پارٹی کو کرپشن کا الزام لگا کر نکالا اور پھر بغیر کسی سزا کے واپس رکھ لیا۔
9۔تبدیلی کی بات کی اور نوجوان نسل کو فاسق بنا دیا جو صرف ماں بہن کو گالیاں دینے کو شعور کہتے ہیں۔
10۔ جلسوں میں ناچ گانا کروا کربعد میں قرآنی آیات تلاوت کیں۔
11۔ اسمبلی کو جعلی کہا اور بعد میں اسی اسمبلی کی تنخواہ لے لی۔
12۔ لوگوں کے سامنے بل جلایا اورگھر آ کر بل جمع کروا دیا۔تلاشی سے بھاگنے والے کو چور کہا اور خود امریکی عدالت سے بھی بھاگ گیا اور پاکستانی عدالت سے بھی ۔
13۔ نواز شریف کے لئے کمیشن اور کمیٹی کی بات کی لیکن اپنی دفع کسی کمیٹی کے سامنے سے انکار کردیا۔