قطری شہزادے کے لئے کالم

ساغر صدیقی نے کہاتھاکہ کہانیاں ہوتی ہیں انہیں عنوان دینا مشکل ہوتاہے ، یہ مشق ایسے ہی ہے جیسے بادہ کشوں کی بستی سے کوئی انسان ڈھونڈلانا ۔ اس وقت کاروبار سیاست اور صحافت کاستارہ ساتویں آسمان پر ہے اور ہر لحظہ ایک نیا وقوعہ نت نیا افسانہ اور نئی داستان جنم لے رہی ہے۔ کبھی کبھار معروف اور گمنام کالموں کی انواع واقسام لکھتا ہوں دوستوں نے فرمائش کی ہے کہ بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال میں انہیں دہرانے کے ساتھ ساتھ نئی اقسام کو بھی عنوانات دوں ۔وطن عزیز کاجیسا نقشہ منیر نیازی نے کھینچا تھاشاید ہی یہ کارنامہ کوئی دوسرا سرانجام دے سکے ۔انہوں نے فرمایا تھاکہ ’’حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ ‘‘۔منیر نیازی کے بیان کردہ انہی آسیب زدہ اصولوں کے عین مطابق کچھ تحریریں انہی قدیمی رجحانات کی آئینہ دار ہیں۔ اگرچہ مقدمہ کا عنوان اس بار ’’پانامہ ‘‘ ہے لیکن الزام جانا پہچانا ہے یہ وہی الزام ہے جو ریاستی اداروں کی طرف سے سیاستدانوں پر عائد کیاجاتارہاہے لیکن اس بار جن تعزیرات کوبروئے کار لایاگیاہے وہ’’ واردات ‘‘اور لوٹ کھسوٹ کا تسلسل اور منی ٹریل کا احاطہ کریں گی۔جب سے پانامہ کا ہنگامہ کھڑا ہوا ہے ہمارے ہاں کالموں کی دومشہو ر اقسام دیکھنے کو ملی ہیں ۔اول’ ’سرکاری کالم‘‘ اوردوم’’ غیر سرکاری کالم ‘‘۔جیساکہ ناموں سے ظاہر ہے سرکاری کالموں میں بڑھ چڑھ کر جمہوریت خطرے میں ہے کا ڈھنڈورا پیٹا جارہاہے ، نیز یہ کہ ووٹوں سے منتخب قیادت کے خلاف ایک مرتبہ پھر سازشوں کاکھیل شروع ہے ۔ شریف خاندان کے خلاف میڈیا میں مبینہ سازشوں پر مبنی ’’سیاسی مرثیہ خوانی‘‘ کے میر ببر علی انیس سمجھے جانے والے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق اس امر کی تردید بھی کرچکے کہ ’’کوئی ریاستی ادارہ حکومت کے خلاف سازش نہیں کررہا‘‘۔ اب سرکاری وزراء کے بیانات پر مبنی اس ہزارداستان کو کیانام دیاجائے جو شریف خاندان کے خلاف کرپشن کے مقدمہ کو جمہوریت کے خلاف شب خون کہتے تھکتے نہیں ۔ غیر سرکاری کالموں میںکرپشن کے الزامات کی زد میں آئی ہوئی قیادت ،سیاست اور حکومت کو جمہور کا قاتل قراردینے کا مقدمہ پیش کیا جاتاہے ۔ سرکاری اور غیر سرکاری کالموں میں زیادہ تر سینہ بہ سینہ کالم ہوتے ہیں کیونکہ اس میں جس طرح سے حکمرانوں سے محبت کے قصیدے اور نوحے لکھے جاتے ہیں اس سے صاف دکھائی دیتاہے کہ ’’آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں ‘‘ ۔
کالموں کی تیسری قسم’ ’نیم سرکاری کالموں‘ ‘ کی ہے ۔یہ کالم تاریخی واقعات سے شروع ہوتے ہیں،ان کا آغاز اگرچہ گوگل پر مہیاکئے گئے تاریخی واقعات سے ہوتاہے لیکن اس میں معروضی سیاست کا تڑکا لگاتے ہوئے آخری پیراگراف میں ثابت کیاجاتاہے کہ پس جمہوریت میں ہی بنی نوع انسان خصوصاََ ہماری سلامتی اور خوشحالی کا اکسیری فارمولا ہے ۔کالموں کی ایک اہم قسم ’’سینئر سرکاری کالم ‘‘ کی ہے۔یہ وہ کالم ہوتے ہیں جن میں نون لیگ اور شریفوں کی ذاتی اور سیاسی ساکھ پر منڈلانے والے ’’ خطرات‘‘ کا منہ توڑ جواب دیا جاتاہے اور پیپلز پارٹی کی بابت اس اصول کویکسر فراموش کردیا جاتاہے۔ مارکیٹ میں کچھ کہنہ مشق ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں خیال کیاجاتاہے کہ اگر سیکرٹ فنڈز پر پابندی لگ جائے تو جمہوریت کی ’’رفو گری‘‘ متاثر ہوسکتی ہے۔یہ کالم کیش،چیک اور اے ٹی ایم جیسی جدید سہولتوں سمیت مراعات ،نوازشات اور احسانات کے ساتھ جوڑ دئیے گئے ہیں ۔ان کی چند مثالیں یوں ہیںادھار محبت کی قینچی کالم،تناول ماحضر کالم ،نکاح مسنونہ کالم ، روانگی بارات کالم ،چشم براہ کالم ،خلع کالم ،حلالہ کالم ،طلاق کالم اور حق مہر کالم ،عدت کالم ،بیوہ کالم ،رنڈوا کالم اور بانجھ کالم ۔ڈیلیکس اور ایگزیکٹو کالموںکی تعداد زیادہ نہیں ان میں اہم کالم کچھ اس طرح سے ہیں اینگری بزرگ کالم ،مغل اعظم کالم ،پٹیالہ کالم ،دوآتشہ کالم ، کاک ٹیل کالم ،اسکاچ کالم ،دیسی کالم ،ہینگ اوور کالم اور پہلے توڑ کاکالم ۔یہ حقیقت ریکارڈ پر موجود ہے کہ جماعت اسلامی کی نظریاتی گود میں کئی لکھاری سن بلوغت سے عاقل بالغ ہوئے لیکن بعدازاں انہوں نے خود کو اس نظریاتی ورثے سے عاق کرلیا۔جماعت کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اس رجحان کو تقویت بخشی اورپھر کالم نگاروں کی تقسیم در تقسیم کچھ اس طرح ہوتی چلی گئی جیالاکالم ، متوالاکالم ، منی لانڈرنگ کالم ، خواجے دا گواہ کالم ، مولاخوش رکھے کالم ،بھاگ لگے رہن کالم ، اللہ بسمہ اللہ میری جگنی کالم ۔جگنی برینڈ کالموں میں راقم باقاعدہ’’ کالم لوہار‘‘ بن کر اپنے سیاسی محبوب کے لئے جگنیاں گاتاہے ۔عاشقوں کی طرف سے محبوبوں کے لئے لکھے گئے کالموں کے عنوانات یوں ہوسکتے ہیں میرا کالم کوراکاغذ،مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ کالم ،بتیاں بجھائی رکھدی کالم ،تیرے مست مست نین کالم ، یہ جو چلمن ہے کالم، جانم سمجھا کرو کالم ،جانو سن ذرا کالم ،ہائے جلتا ہے بدن کالم ،تم جو مل گئے ہو کالم اور چانجھر دی پانواں چھنکارکالم۔جھانجریا کالموں میں کالم نگار اپنے سیاسی کلائنٹ سے والہانہ محبت کرتے ہوئے اسے انسانی اوصاف کی رفعتوں پر پہنچا دیتا ہے ۔یہ کسبی اپنے کلائنٹ کے پورٹ فولیو میں ایسی ایسی خوبی شامل کرتاہے کہ کلائنٹ دم بخود ہوکر سوچنے لگتاہے کہ ’’عقل ہے محو ِتماشہ لب ِ بام ابھی ‘‘ ۔
لواری ٹنل ابھی زیر تعمیر ہے لیکن وزیر اعظم صاحب نے اس پر اپنے نام کی تختی آویزاں کردی ہے۔لواری ٹنل تعمیر کرنے کا آغاز 1974میں ہواتھاہم سب جانتے ہیںکہ اس عرصہ میں ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر اعظم تھے۔نوازشریف نے چترال میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 74میں لواری ٹنل کی تعمیر کا آغاز صرف کاغذوں میں ہوا تھااگر اس وقت منصوبہ شروع ہوجاتا تو 43سال تاخیرنہ ہوتی۔جمہوری فلم کے نئے چہروں کا مطالعہ پاکستان خاصا کمزور ہے یہ اگر اپنی دیگر گوناگوں مصروفیات کے باعث پاکستان کی سیاسی تاریخ کامطالعہ نہیںکرپائے تو ان کے سیاسی ٹیوشن ٹیوٹرز کو چاہیے کہ وہ انہیں امتحانات میں 33%پاس مارکس کے لئے کوئی گیس پیپرہی یاد کرادیں ۔بھٹو ملک کے وہ قائد تھے جنہوں نے اپنے پانچ سالہ دورحکومت میں اتنے کارہائے نمایا ں سرانجام دئیے کہ مخصوص ٹکسالوں میں گھڑے جانے والے ریڈی میڈقائدین سات جنموں میںان کے گوشوارے بھی مرتب نہیں کرسکتے۔ شریف خاندان کے افراد جن میں حسن، حسین، مریم، شہبازشریف،اسحاق ڈار اور نوازشریف شامل ہیں نے فرداََ فرداََ کہاہے کہ ’’انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ ان پر الزام کیاہے‘‘۔
سپریم کورٹ کی طرف سے جے آئی ٹی کو تفتیش کیلئے سونپے گئے 13سوالات الزام نہیں تو کیاہیں؟شریف خاندان کی طرف سے منی ٹریل کی پہلی اور آخری گواہی قطری شہزادے کی تھی جو نہ ہوسکی ۔ محترم جسٹس اعجازالحسن کا کہناہے کہ قطری شہزادہ شاید فوٹو جینک نہیں اسلئے وڈیو لنک پر بھی نہیں آئے۔ جسٹس صاحب نے کہاکہ چلیں ہم سب مل کر دوحہ چلتے ہیں۔ عدالت میں مبینہ جعلی دستاویزات بھی جمع کرائی گئیں۔اس کے باوجود وزیر اعظم کہتے ہیںکہ جے آئی ٹی اور پی ٹی آئی کو بتانا چاہتا ہوں کہ لو گ احتساب کونہیں مانیں گے۔گواہی کیلئے قطری کے پاکستان نہ آنے کے واقعہ پر لکھے جانے والے کالم کا عنوان راحت کی گائی نظم۔۔ نظر میں رہتے ہوجب تم نظر نہیں آتے۔ قطری کی طرف سے گواہی کے لئے عدم دلچسپی کو یوں موضوع کیاجاسکتاہے کہ ’’یہ سُربلاتے ہیں پر تم اِدھر نہیں آتے‘‘۔