پاکستان ہے ہی جمہوریت

یہ ابھی کل کی بات ہے کہ ہم ایک بالکل نئے نکور ملک کے آزاد شہری کہلانے شروع ہوئے ۔ اس وقت کی دنیا میں جتنے نظام زندگی اور حکومت جاری تھے ہمیں ان میں سے کسی کوبھی پسند کر لینے کا آزادانہ اختیار ملا چنانچہ ہم نے جمہوری نظام زندگی کو اپنے لیے مناسب تصور کیا اور ہم ایک جمہوری ملک کہلائے چونکہ ہم سب یا بھاری اکثریت والے ایک مسلمان ملک تھے اس لیے مسلمان اکثریت کا یہ ملک جمہوریہ سے رفتہ رفتہ ایک اسلامی جمہوریہ میں بدل گیا اور اسلامی جمہوری کہلایا۔ دنیا کا واحد اسلامی جمہوریہ ملک ، یوں تو پہلا بھی تھا لیکن اس سے قبل چونکہ اسلامی جمہوری ملک گزر چکے تھے اس لیے اسے ایک منفرد اسلامی جمہوریہ ملک قرار دیا گیا ۔
جمہوریت اگرچہ جدید طرز کی حکومت کی ایک صنف تھی اس لیے اس نئے ملک کا مکمل نام ’’اسلامی جمہوری پاکستان‘‘ کہلایا اور اب تک اس کا سرکاری نام یہی ہے اور یہی رہے گا یعنی’اسلامی جمہوریہ پاکستان ‘ اس مین تبدیلی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، یہ گویا اس ملک کا موروثی نا م ہے جو اسے اس کے اسلامی ورثے میں ملا ہے اور دنیا کایہ واحد ملک ہے جو کسی ایسے ورثے کا مالک ہے یعنی ایک عالمی نظریئے کا مالک ملک ہے اور یہ نام اور ورثہ اس کو دیا نہیں گیا اسے ’’ورثے‘‘ میں ملا ہے۔ اور ورثہ بھی ایسا جو دنیا کے ایک زندہ نظریے کا نام ہے جس پر دنیا بھر کے مسلمان فخر کرتے ہیں اور اسے اپنی میراث تصور کرتے ہیں۔
دنیا میں کوئی نظریہ ایسا نہیں جس پر بننے والا ملک اپنی انفرادیت رکھتا ہو اور یہ انفرادیت اسے تاریخ کے حالات نے بے ساختہ عطا کی ہو ۔ اسلام کے نام سے ایک نظریہ زندگی اور حکومت وجود میں آیا جس کا اعزاز پاکستان کو ملا اور اس ملک کا نام پاکستان کے نام سے موسوم ہے۔
آج یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلاتا ہے جو ایک قدرتی نام ہے جسے پیغمبروں کی برکت حاصل ہے اور یہ برکت اس کے نام اور ورثے کا حصہ بن چکی ہے یعنی اسلام اپنی تمام تر برکات کے ساتھ ایک ملک کا نام بن گیا اوراس نے دنیا میں رائج الوقت حکومتی نظام ہائے زندگی میں سے جمہوریت کو پسند کیا ہے اور جمہوریہ کہلایا’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ ۔ اب اس ملک کو اس کے نام یعنی جمہوریت سے محروم نہیں کیا جاسکتا ۔ جمہوریت اس ملک کے لیے ایک نظام زندگی ہی نہیں سب کچھ ہے جس کے بغیر یہ ملک نہ پہچانا جاتا ہے اور نہ اسے یاد کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً آپ کا جو بھی نام ہے، وہ آپ کا تعارف اور پہچان ہے۔
ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ’ اسلامی جمہوریہ پاکستان ‘ ہمارا وہ نام ہے جو باپ دادا نے ہمیں دیا ہے، اس نام سے دوری ہمیں اپنے باپ دادا سے دور کر دیتی ہے۔ ہمیں کچھ اور بنا دیتی ہے اور کون ہے جو اپنی ذات بدل دینا چاہتا ہے، کچھ اور بن جانا چاہتا ہے ۔کوئی بھی پاکستانی اپنے آپ کو بدلنا نہیں چاہتا، وہ پاکستانی رہنا چاہتاہے اور اسے اس پر فخر ہے کیونکہ وہ ایک نظریہ کی وراثت کا دم بھرتا ہے اور اس پر فخر کرتا ہے ۔ اس کا یہ فخر بجا ہے کہ یہ اسے ایک ایسے نظریے کی طرف لے جاتا ہے جو تاریخ نے اسے دیا ہے جس میں کئی پیغمبروں کی برکتیں اور قربانیاں ہیں اور دعائیں اورمناجاتیں ہیں ۔ دنیا میں کوئی دوسرا نظریہ اور مذہب ایسا نہیں جو اس قدر اعزاز رکھتا ہو۔ اگر خدا ہے تو یہ اس کا پسندیدہ ترین مذہب ہے اور اس کی رحمتیں اس کے ساتھ ہیں۔
اس تہذیب کے ماننے والوں نے اپنے لیے وہی دین پسند کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے پسند کیا ہے اور جس پر ان کو متفق کیا ہے کیونکہ اس اتفاق میں جبر نہیں ہے، مرضی اور اتفاق شامل ہے اور انسانی اتفاق رائے ہے جو انسانوں نے اپنے لیے خود منتخب کیا ہے تا کہ وہ اس سے ایک متفقہ نظریہ اختیار کر سکیں جس میں کسی دوسرے انسان کا جبر اور نہیں مرضی اور رضا شامل ہو جسے نئی اصطلاح میں جمہوریت کہا جاتا ہے یعنی انسانوں کی مرضی اور رضا۔ اگر ہم ادیان رفتہ کا مطالعہ کریں تو ہمیں ان میں انسانی مرضی دکھائی دیتی ہے ۔ جبر کو کفر قرار دیا گیا ہے جو انسانی خواہش کے خلاف چلتا ہے اور جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلام کے معنی ہی اتفاق کے ہیں، مل جل کر رہنے کے ہیں۔
مسلمانوں کے ہاں اتفاق رائے نہ ہونے کو انتشار کہا جاتا ہے جو ایک ناجائز عمل ہے اور جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں کیونکہ اسلام امن اور سلامتی کا نظریہ ہے کوئی دوسرا نظریہ اس میں سما ہی نہیں سکتا ۔ اسلام سلامتی کا دین ہے اور جب دو مسلمان آمنے سامنے ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ایک دوسرے کے لیے سلامتی طلب کرتے ہیں اور اسی سلامتی میں جواب بھی دیتے ہیں ــ’’السلام علیکم وعلیکم السلام‘‘۔ اسلام درحقیقت ایک ایسی جمہوریت کا نام اور اعلان ہے جو مسلمان دن میں نہ جانے کتنی مرتبہ کرتا ہے۔
سلامتی اور جمہوریت اسلام کے ہم معنی ہیں اور مسلمان جمہوریت پر ایمان سے زندہ رہتے ہیں ۔ اس طرح جمہوریت ایک مسلمان معاشرے کا بنیادی حصہ ہے ۔دنیانے جمہوریت سچ بات ہے کہ اسلام سے سیکھی جس کی بنیاد ہی جمہوریت پر رکھی گئی ہے اگر جمہوریت نہیں تو اسلام بھی نہیں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اسلام جمہوریت کے بطن سے پیدا ہواہے۔