ملکی تاریخ کا اہم موڑ

پاناما لیکس کا معاملہ ملکی سیاست و میڈیا پر ڈیڑھ برس سے چھایا ہوا ہے، ملک کی 70سالہ سیاسی تاریخ میں کئی ہائی پروفائل کیسز اور کمیشنوں کی رپورٹ سامنے آئی مگر جو ہنگامہ پاناما لیکس کے معاملے پر برپا ہے وہ اس سے پہلے دیکھنے میں کبھی نہیں آیا، اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ اس کیس نے ماضی کے برعکس تبدیلی، انقلاب، اسٹیٹس کو اور جمود کے ٹوٹنے کا بگل بجادیا ہے۔
ملکی تاریخ کے سب سے بڑے کیس کی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ کے 3رکنی خصوصی بینچ کو پیش کرنے کے بعد ایک ہیجانی کیفیت برپا ہے، ملکی معاملات میں بھونچال سا آیا ہوا ہے، سیاستدانوں کے تلخ بیانات سے سیاسی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ہیں، اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم کے استعفے پر مصر ہیں، تو دوسری جانب تجزیوں، تبصروں، پیش گوئیوں کا نہ تھمنے والا سیلاب بھی امڈ آیا ہے، ہر شخص کے ذہن و زبان پر ایک ہی سوال گردش کررہا ہے کہ اب کیا ہوگا؟ سیاسی و آئینی بحران پیدا ہونے جارہا ہے یا سب کچھ ٹھیک ہونے جارہا ہے؟ آیندہ کا سیاسی نقشہ کیا ہوگا؟
سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما لیکس کی سماعت 23فروری کو مکمل کی گئی اور محفوظ کیا گیا فیصلہ 20اپریل کو سنایا گیا، 2ججز نے وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا جب کہ 3ججز کی جانب سے مزید تحقیقات کا حکم دیکر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ سپریم کورٹ کے 13سوالات پر جے آئی ٹی نے 60دن میں وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز، حسن نواز، حسین نواز سمیت رشتہ داروں سے بھی پوچھ گچھ کی اور 10جولائی کو دس جلدوں پر مشتمل حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔
رپورٹ میں وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز، صاحبزادوں حسین نواز اور حسن نواز کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کی گئی ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیر اعظم اور ان کے بچوں کا رہن سہن ان کی معلوم آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا۔
جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم کے پاس 3آپشن تھے، اول، وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیکر اپنی جگہ نیا وزیر لے آتے، دوئم، استعفیٰ دیکر اسمبلیاں تحلیل کرکے قبل از وقت انتخابات کرادیتے، سوئم، سپریم کورٹ میں آئینی و قانونی جنگ لڑتے، وزیر اعظم نے تیسرا آپشن استعمال کیا اور سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر 9صفحات پر مشتمل اپنے اعتراضات جمع کرادیے، جن میں استدعا کی گئی کہ زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا جائے۔
حکومتی ناقدین کہتے ہیں کہ جب جے آئی ٹی رپورٹ کو مسترد ہی کرنا تھا تو پھر وزیر اعظم جے آئی ٹی میں پیش کیوں ہوئے؟ جب جے آئی ٹی بنی تو اس وقت خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور جے آئی ٹی نے جب کام شروع کیا تو اس پر تنقید کے نشتر برساکر اسے متنازع بنانے کی کوشش کیوں کی گئی؟ اور اب جے آئی ٹی کی رپورٹ کو ہی مسترد کرنے کی استدعا کی جارہی ہے۔ قرائن یہی بتاتے ہیں کہ حکمران خاندان جو ماضی میں قسمت کی یاوری کے سبب متعدد بار بہت سے طوفانوں سے بچ نکلا، ایسے ایسے مقدمات اور الزامات جو دوسروں کے حق میں مہلک ثابت ہوتے، انھیں گزند پہنچائے بغیر گزر گئے، شریف برادران تمام طوفانوں سے بچ کر نکلتے رہے، تاہم پاناما کیس میں حکمران خاندان پھنس گیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمران خاندان پر پاناما کیس کے فیصلہ کے غیر معمولی اثرات مرتب ہونگے، یہ کیس قومی سیاسی افق کو متاثر کرنے کی بھی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے، پاناما کیس کا فیصلہ حکمران خاندان کے خلاف آئے یا حق میں آئے، ضروری یہ ہے کہ ملکی مفاد اور آئین کی پیروی میں سب اسے تسلیم کریں، اگر سپریم کورٹ یہ مسئلہ اپنے ذمے نہ لیتی تو پاکستانی عوام کا جمہوریت، آئین اور قانون پر سے اعتماد اور بھروسہ اٹھ جاتا، یہ سوچ مزید پختہ ہوجاتی کہ مملکت خداداد میں طاقتور طبقات اور اشرافیہ کے لیے ایک قانون ہے اور دوسروں کے لیے دوسرا۔ بالا دستی کے سیاسی عمل میں آزاد عدلیہ ہی وہ فیکٹر ہے جو سیاسی نظام کی رگوں سے بدعنوانی کا زہر نکالنے اور طرز حکمرانی کو شفافیت عطا کرنے کی کلیدی حیثیت کا حامل ہے، اس کا فیصلہ تمام سیاسی جماعتیں ان کے رہنما اور حکمران تسلیم کرنے کے پابند ہیں، موجودہ صورتحال سیاسی فہم و فراست، دور اندیشی اور عدالتی پراسیس کا ایک صبر آزما امتحان ہے جس سے نکل کر ہی عدلیہ اور سیاستدان ملکی تاریخ کا رخ بدل سکتے ہیں۔
ملک میں وزیر اعظم کے خلاف کرپشن کے الزامات میں اس طرح کی تحقیقات کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی، ملکی تاریخ میں اس مقدمے کے فیصلے کے بہت دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ پر مقدمے کے فریقین مکمل اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں، انھوں نے عدالت عظمیٰ کے ہر فیصلے کو قبول کرنے کا بار بار اعلان کیا ہے، یقینا عدالت کا فیصلہ آئین قانون اور انصاف کے تمام تقاضوں کے مطابق ہوگا، ملک اس وقت کئی قسم کے اندرونی وبیرونی خطرات سے دوچار ہے، سرحدوں پر صورتحال معمول کے مطابق نہیں، ایسے میں اندرونی خلفشار اس کے مسائل میں مزید اضافہ کریگا۔ جیسا کہ گزشتہ دنوں جے آئی ٹی رپورٹ سے پیدا ہونیوالے اضطراب و خدشات کی وجہ سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں بدترین منڈی دیکھنے میں آئی، سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ ڈوبنے کے خوف میں دھڑا دھڑا حصص فروخت کیے جس سے مارکیٹ منہ کے بل آگری، یہ صورتحال کسی بھی صورت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں، سیاسی جماعتوں کو ملکی معیشت کے استحکام، ریاستی اداروں اور عدلیہ پر پڑنے والے دباؤ کا ادراک و احساس کرنا چاہیے۔
عدلیہ کو اپنے فیصلہ کی ایسی تاریخ ساز اور بے مثال نظیر پیش کرنی ہے جو آیندہ کئی برسوں تک عدالتوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکے اور صدیوں تک پاناما کیس کی گونج سنائی دیتی رہے کیونکہ پاناما کیس سے قانون کی حکمرانی کے ایک دیرینہ اور بیش قیمت خواب کی گمشدہ تعبیر بھی جڑی ہوئی ہے، شفاف حکمرانی کے مستقبل اور ملکی سلامتی و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سیاسی افق پر امید و خدشات کے درمیان فیصلہ کن اور اعصاب شکن کشمکش میں قوم کو خوشخبری ملنی چاہیے۔
عوام کی نظر میں سپریم کورٹ اور دیگر تحقیقات و انصاف کرنے والے اداروں کے لیے احترام و اعتقاد کی ساکھ بنانے اور تاریخ رقم کرنے کا سنہری موقع آن پہنچا ہے اور یہ غیر جانبداری سے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا کڑا امتحان بھی ہے۔ اس اہم اور غیر معمولی کیس کا فیصلہ عدالت عظمیٰ کو کرنا ہے اور بلاشبہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے عدالتی تاریخ کے اس منفرد اور عہد آفریں مقدمہ کا فیصلہ قانون و آئین، انصاف کے بہترین اصولوں اور میرٹ پر ہی آئیگا۔
تاریخ کے اس اہم موڑ پر سیاستدان بصیرت کا مظاہرہ کریں، سیاستدانوں پر لازم ہے کہ پاناما کیس کی قانونی جنگ کو آئینی دائرہ کار میں رکھا جائے اور سیاسی کشمکش سے مسائل کو پیچیدہ نہ بنایا جائے، معاملہ عدالت کے روبرو ہے اس لیے حد ادب اور احترام عدالت ہر سیاسی جماعت پر لازم ہے، سیاسی اور قانونی جنگ میں سیاسی اخلاقیات اور عدلیہ کے احترام کو ملحوظ رکھنا ناگزیر ہے، فریقین قانونی پراسس کو فالو کریں، میڈیا میں اپنی جنگ نہ لڑیں، عدالت عظمیٰ کے باہر مناظرے بند کریں، عدالتی فیصلہ کا صبر و تحمل سے انتظار کریں، تمام اسٹیک ہولڈرز کی اولین ترجیح ملک و قوم کا مفاد ہونی چاہیے۔
ہر محب وطن پاکستانی کی دلی تمنا ہے کہ سیاسی جماعتیں اور کیس کے فریقین آئین و قانون کے دائرے میں رہیں۔ قوم کو یہ پیغام بھی جانا چاہیے کہ پاناما کیس اقتدار پر قبضہ کی لڑائی نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی جمہوری اور عدالتی کوشش ہے، سیاستدان اپنی سرگرمیوں کو اعتدال میں رکھیں اور غیر یقینی صورتحال بڑھانے سے گریز کریں، معاملات کو ایسی سطح پر نہ لے جائیں جہاں قومی مفادات کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو، ایسا طرز عمل غیر جمہوری قوتوں کو آگے آنے کی دعوت دینے کے مترادف ہوگا ۔