پاناما کیس کی سماعت مکمل،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما عمل درآمد کیس میں سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ فیصلے کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پر پاناما عمل درآمد کیس کی سماعت مکمل ہوگئی ہے، عدالت عظمیٰ نے کیس کا فیصلہ محفظو کرلیا ہے۔ سماء کے مطابق فیصلہ بنانے کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

آج کیس کی مسلسل پانچویں سماعت کے دوران اہم پیش رفت ہوئی ہے، عدالت عظمیٰ نے رپورٹ کا والیم 10منگوا کر کھول دیا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ابھی یہ جلد کسی کو نہیں دکھائیں گے، جلد 10 سے بہت سی چیزیں واضح ہوجائیں گی۔آج ہونے والی سماعت کو مکمل کرنے سے قبل جسٹس عظمت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا اپنا20اپریل والا فیصلہ بھی پتا ہےاور دلائل بھی سن لیے ہیں،نااہلی کا جائزہ لیں گے، اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، پہلے ہی نااہلی کے معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعظم نے جو پراسرار ثبوت اسپیکر قومی اسمبلی کو دیے وہ ہمیں کیوں نہیں دے رہے؟ وزیراعظم نے ’’ہمارے اثاثے‘‘ میں اپنے آپ کو بھی شامل کیا تھا؟ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے لہروں کے خلاف بھی تیرنا پڑا تو تیریں گے، مدعاعلیہان کے بنیادی حقوق کا خیال ہے،آئین اور قانون سے باہر نہیں جائیں گے۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ یہاں معاملہ عوامی عہدہ رکھنے والے کا ہے، وہ اپنے عہدے کے باعث جواب دہ ہیں۔ دوران سماعت جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ آئین کے آرٹیکلز ہماری نظروں کے سامنے ہیں کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جس سے کسی کے بنیادی آئینی حقوق کی تلفی ہو۔

پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ جمع کرانے کے بعد جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے جمعہ کے روز مسلسل پانچویں کیس کی سماعت کی، جمعہ کے روز ہونے والی آخری سماعت میں وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل مکمل کرلیے، جب کہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے بھی دوسری مرتبہ دلائل دئیے۔
جسٹس عظمت نے وزیر اعظم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ صاحب یہ دسویں جلد آپ کی درخواست پر کھولی جارہی ہے، ابھی دسویں جلد کسی کو نہیں دکھائیں گے۔ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت کا استحقاق ہے وہ کسی کو بھی دکھائے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ عوامی عہدہ رکھنے والے نے قومی اسمبلی اور قوم سے خطاب کیا تھا،خطاب میں کہا تھا بچوں کے کاروبار کے تمام ثبوت موجود ہیں، ہم ایک سال سے ان ثبوتوں کا انتظار کررہے ہیں، رپورٹ میں مریم کے بینیفیشل مالک ہونے کا کہا گیا ہے، مریم نواز کی کمپنیوں کا بینیفیشل مالک ہونا کیپٹن صفدر کے گوشواروں میں ظاہر نہیں ہوتا،عدالت اس نتیجے پرپہنچی ہے کہ گوشواروں میں ملکیت کا ذکر نہیں تو عوامی نمائندگی ایکٹ لاگو ہوگا۔

وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ کل کی سماعت میں نیلسن اور نیسکول ٹرسٹ ڈیڈ پر بات ہوئی تھی، عدالت نے کہا تھا کہ بادی النظر میں یہ جعلسازی کا کیس ہے،اور میں نے کل کہا تھا اس کی وضاحت ہوگی۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ کسی بھی صورت میں جعلی دستاویز دینے کی نیت نہیں تھی،یہ صرف ایک کلریکل غلطی تھی، اکرم شیخ کے چیمبر سے ہوئی۔دوسرا معاملہ چھٹی کے روز نوٹری تصدیق کا ہے،لندن میں یہ معمول کاکام ہے، چھٹی کے روز نوٹری تصدیق ہو جاتی ہے۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ آپ کی بات نوٹ کرلی کہ ہفتے کے روز بھی سالیسٹر دستیاب ہوتے ہیں۔سلمان اکرم راجا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کو کاروبار کے لیے وسائل ان کے دادا نے دئیے،سال 2004 تک حسن اور حسین کو سرمایہ ان کے دادا دیتے رہے۔ بچے اپنے کاروبار کے خود ذمے دار ہیں،اگر بیٹااثاثے ثابت نہ کر سکےتو ذمےداری والدین پر نہیں آ سکتی۔جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ کل پوچھا تھا کیا قطری شواہد دینے کے لیے تیار ہے؟ سلمان اکرم نے دلائل میں کہا کہ قطری کی جانب سے کچھ نہیں کہہ سکتا، قطری کو وڈیو لنک کی پیشکش نہیں کی گئی، اس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ شواہد کو تسلیم کرنا نہ کرنا ٹرائل کورٹ کا کام ہے۔